جہلماہم خبریں

عام انتخابات میں سوشل میڈیا پر ڈیم نہیں تو ووٹ نہیں کی مہم عروج پر پہنچ گئی

جہلم: عام انتخابات میں سوشل میڈیا پر ڈیم نہیں تو ووٹ نہیں کی مہم عروج پر پہنچ گئی، ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کر رکھی ہے ۔ جس میں کالا باغ ڈیم سمیت پہاڑی علاقوں سے ضائع ہونے والے پانی پر ڈیم بنانے کی مہم زورو شور سے جاری کر رکھی ہے ۔

نوجوانوں کا اس حوالے سے کہناہے کہ 2025 ء میں پاکستان کی سرزمیں پر پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہے اس لئے ڈیم بناؤ مہم کا آغازکیا گیاہے ، مہم میں سیاسی جماعتوں کو اسی صورت ووٹ دینے کی حامی بھرنے کی تلقین کی جا رہی ہے جب وہ اقتدار میں آکر فوری کالا باغ ڈیم سمیت اضلاع اور صوبوں میں نئے ڈیم بنانے کی یقین دہانی کریں گے۔ سوشل میڈیا پر بھارت کی آبی جارحیت ، پاکستان کے دریاؤں کے راستے میں ڈیموں کی بھرمار کرنے اور پاکستان کے حصے کا پانی بھارت میں ہی روک دینے کے گھناؤنے عمل سے پاکستانی قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے جبکہ ہمارے حکمرانوںنے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیارکررکھی ہے۔

نوجوانوں نے کالا باغ ڈیم کو پاکستان کی مستقبل کی آبی ضروریات کے امین کے طور پر مہم کو چلانی شروع کر رکھی ہے جس میں یہ موقف دیا جا رہا ہے کہ اس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جائیگا۔ اس طرح 3600 میگا واٹ مزید بجلی کو سسٹم میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ تھرمل بجلی کے بنانے پر ہائیڈرل میں 20 ملین بیرل تیل کا خرچہ ہوتا ہے جبکہ ڈیم میں سوسال تک پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 3.2 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

سوشل میڈیا میں پاکستان کی جانب آنے والے پانی کو بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے اٹھا کر اپنی طرف منتقل کرتے بھی دکھایا جا رہا ہے ، کالا باغ ڈیم نہ بننے کی صورت میں بہاولپور ، دریائے راوی ، منگلا ، تربیلاڈیموں کی خشک حالت میں دکھائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا مہم میں بتایا گیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی اہمیت کیا ہے اس حوالے سے موقف دیا گیا ہے کہ کالا باغ ڈیم صرف 4 سال میں تعمیر ہو سکتا ہے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں جاری اس سوشل میڈیا مہم کی شیئرنگ بھی ہاتھوں ہاتھ چل رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button