کالم و مضامین

بارشیں کیسے ہوں؟ — تحریر: احسان شاکر

رمضان المبارک کا بابرکت مہینا آتا ہے تو ماحول میں ایک مثبت تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔مساجد میں رونق بڑھ جاتی ہے۔ بچے،بوڑھے جوان سب مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ گھروں میں خواتین اور بچیاں بھی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں۔سحری اور افطاری میں مزے مزے کے کھانے بنائے جاتے ہیں۔یہ کھانے نہ صرف اپنے اہل خانہ کے لیے بنتے ہیں بلکہ رشتہ داروں اور محلے داروں کے گھروں میں بھی بھیجے جاتے ہیں۔روزہ کے دوران بھوک اور پیاس کی وجہ سے دلوں میں غربا اور مساکین سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ا س لیے ہم جو کچھ خود کھاتے ہیں اس میں سے کچھ حصہ غربا اور مساکین کو بھی ضرور دیتے ہیں۔فطرانہ کی شکل میں بھی غربا اور مساکین کی مدد کی جاتی ہے تاکہ عید الفطر کے موقع پر وہ بھی بخوشی اپنے بچوں کے ساتھ عید منا سکیں ۔الغرض رمضان کا مہینا ہمیں صحیح معنوں میں ایک اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے لیے خصوصی تربیت کرتا ہے۔ایک ماہ کی اس تربیت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم سال بھر اس تربیت کی مدد سے اپنے معاملات کو بطریق احسن انجام دے کر اسلامی معاشرے کی قیام میں اہم کردار ادا کریں۔

جس طرح مغربی تہذیب نے پاکستانی معاشرے کو دیگر شعبہ جات میں متاثر کیا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی اچھی روایات بھی اب متاثر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔جو کسی طرح بھی ہمارے لیے خوش آئند نہیں ہے۔گزشتہ تین سالوں سے نماز تراویح کے وقت مسجدوں میں نوجوانوں کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے۔اس کی وجہ تلاش کی تو دل بہت دکھا اوررونا بھی آیا کہ گرمیوں کے موسم میں جب راتیں چھوٹی اور دن بڑے ہوتے ہیں تو نماز تراویح اور سحری کے وقت میں وقفہ بہت کم رہ جاتا ہے۔اگر اس وقفے میں سوجائیں تو سحری کے وقت جاگنا قدرے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ نیند کے لیے وقت بہت کم ملتا ہے۔چنانچہ نوجوانوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ رات کے وقت کھیل کے میدانوں کو آباد کرلیا۔پاکستان کے کسی ایک شہر میں فلڈ لائٹس میں کرکٹ اور فٹبال کے میچز شروع ہوئے جو کرتے کرتے تقریباََِ اب سارے پاکستان میں شروع ہوگئے ہیں۔پہلے سال تو یہ ہوا کہ نماز تراویح کے بعد سے یہ میچز شروع ہوتے اور سحری کے وقت تک جاری رہتے لیکن اب ایسا ہے کہ یہ میچز نماز تراویح کے وقت ہی شروع کردیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان یہ میچ کھیلنے اور دیکھنے کے لیے مسجدوں کی بجائے کھیل کے میدانوں کا رخ کرتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سرگرمی کی وجہ سے مسجدیں ویران اور کھیل کے میدان آباد ہوگئے ہیں ۔

دوسری جانب خواتین میں بھی ایک منفی رجحان پیدا ہورہا ہے ۔پہلے نماز تراویح کے وقت وہ گھروں میں رہ کر باقاعدگی سے نماز کا اہتمام کرتی تھیں انھیں دیکھ کر گھرمیں چھوٹے بچے بھی نماز کی طرف راغب ہوتے تھے۔ اب دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں دن بھر تو بازاروں میں رش ہوتا ہی ہے لیکن رات کے وقت یہ رش مزید بڑھ جاتا ہے۔عید کی شاپنگ کے لیے خواتین کو یہ وقت مناسب دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس وقت دھوپ نہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت بھی کم ہوتی ہے اور اس وقت وہ روزے سے بھی نہیں ہوتی ہیں۔یوں کھیل کے میدانوں کی طرح رات کے وقت بازار بھی آباد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گھروں میں نماز عشا کا اہتمام نہ ہونے کے باعث گھروں میں اسلامی ماحول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

موجودہ رمضان المبارک میں گرمی کی شدت اور بارشوں کے نہ ہونے کے بارے میں ایک بزرگ سے بات ہوئی ، دریائوں، ڈیموں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر بھی بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہاںواقعی اس وقت بارشوں کی اشد ضرورت ہے لیکن جب نمازوں کے وقت مسجدیں اور گھر ویران اور کھیل کے میدان اور بازار آباد ہوں تو بارشیں کیسے ہوں ؟یہی وہ سوال تھا جس نے مجھے ایک گہری سوچ میں مبتلا کردیا اورجواس کالم کے لکھنے کا باعث بنا۔

[email protected]
0334-9001281

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button