پنڈدادنخاناہم خبریں

پنڈدادنخان میں بااثر افراد کا غریب درزی پر وحشیانہ تشدد، درزی کے خلاف مقدمہ درج، اہل محلہ کا احتجاج

پنڈدادنخان: نواحی علاقہ لِلہ میں با اثر افراد کا غر یب درزی پر وحشیانہ تشدد، تھانہ لِلہ کی پو لیس بھی ظالموں کے ساتھ مل گئی، متاثرہ مدعی پر بھی مقدمہ درج کر دیا ،متاثرین کا لِلہ پولیس کے خلاف تحصیل پریس کلب پنڈدادنخان کے سامنے شدید احتجاج، ہمارے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے انصاف دلایا جائے ۔متاثرین

تفصیلا ت کے مطابق پنڈدادنخان کے نواحی علاقہ لِلہ ٹاؤن میں بااثر افراد نے غریب درزی کو تشدد کا نشانہ بناڈالا، مدعی امیر حمزہ اور اہلیان محلہ نے تحصیل پریس کلب رجسٹرڈپنڈدادنخان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے لِلہ پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ لِلہ کے اکرم نامی اے ایس آئی کی ملی بھگت سے ہمارے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے پولیس ہمارے اوپر جھوٹا مقدمہ بنا کر ہمارے ساتھ ظلم کر رہے ہیں اور ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔

امیر حمزہ نامی درزی کی بیوی کا کہنا ہے کہ میرے خاوند کی درزی کی دکان ہے عرفان نامی شخص نے میر ے خاوند سے کپڑے سلوائے جس پر اس کی مرضی کا ڈیزائن نہیں بن سکا جس پر عرفان نامی شخص آگ بگولا ہوگیا اور میر ے خاوند پر تشدد کیااس کے بعد عید کے دن دوبارہ مسلح افراد کو بلوا کر میرے خاوند کو مارا پیٹا اور شدید زخمی کر دیا۔

شور شرابا سننے پر اہل محلہ نے میرے شوہر کی جان بچائی اور دو حملہ آوروں کو موٹر سائیکل سمیت پکڑ کر لِلہ پولیس کے حوالے کیا لیکن بااثر افراد نے پولیس کی ملی بھگت سے ہمارے خلاف ہی مقدمہ درج کر دیا اور میرے زخمی شوہر کو گرفتار کر لیا جبکہ میر ے شوہر پر تشدد کرنے والے افراد ابھی بھی گرفتار نہیں ہوئے ہمارے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔

مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سارے واقع کی انکوائری کروائی جائے اور جھوٹا مقدمہ خارج کرکہ اصل ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے یاد رہے تھانہ لِلہ میں تعینات محمد اکرم نامی اے ایس آئی نے ڈاکٹر کی ملی بھگت سے گزشتہ ماہ بچے سے بد فعلی کے کیس میں بھی رشوت بٹور کر ملزمان کا بھرپور ساتھ دیا تھا جبکہ ایس ایچ او نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے افراد زخمی ہوئے ہیں قانون کے مطابق جو بھی کاروائی ہوئی کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button