جہلم

عیدالفطر کے قریب آتے ہی جہلم میں بھکاریوں نے ڈیرے ڈال لئے، شہری پریشانی میں مبتلا

جہلم: عیدالفطر کے قریب آتے ہی شہر کی سڑکوں، گلی، محلوں، چوک چوراہوں اورسول ہسپتال میں مرد بھکاریوں کے ساتھ ساتھ برقعہ پوش خواتین بھکارنوں کے قبضے ہونے کے باعث شہری سخت پریشانی میں مبتلا، عید الفطر کے قریب آتے ہی بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ، جگہ جگہ بھکاریوں نے عارضی بنیادوں پر ڈیرے جمالیے ہیں۔

سروے کے مطابق پڑوسی اضلاع سے پیشہ ور بھکاری چوک،چوراہوں،گلی محلوں سمیت شہر کی اہم سڑکوں پر قبضے جما لیتے ہیں ، جہاں پر یہ بھکاری فطرانہ ، ذکوٰۃ ، خیرات ، صدقہ مانگتے نظرآتے ہیں ، پیشہ ور بھکاریوں کی وجہ سے اصل حقدار افراد کا حق ان تک نہیں پہنچ پاتا جس سے حقداروں کی حق تلفی ہورہی ہوتی ہے ، سفید پوش لوگ جو کہ اپنی ضرورت کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے وہ لوگ اپنی ضرورتوں کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کو چاہیے کہ وہ اس مافیا کو نہ صرف بے نقاب کریں بلکہ انکا تدارک بھی کریں تاکہ حقداروں تک ان کا حق صحیح معنوں میں پہنچ سکے ۔ اس وقت شہر و گردونواح میں بھکاریوں کے جتھے سڑکوں ، چوک چوراہوں پر صبح تا رات تک مٹر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں بھکاری شہریوں اور خواتین کو اللہ اور اس کے رسول کے واسطے دیکر مختلف حیلوں بہانوں سے بھیک مانگ رہے ہیں ، بھکاری5/10 روپے دینے والے شہریوں کی تذلیل کرنے سے بھی اجتناب نہیں کرتے۔

بھکاریوں کا کہنا ہے کہ اب چائے کا کپ بھی 30 روپے کا ملتا ہے، بھیک دینے والوں کو شرم آنی چاہیے کہ کم از کم100/50 کا نوٹ تو دیں ، تاکہ اپنے بیوی بچوں کا بہتر طریقے سے پیٹ پال سکیں۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھکاریوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو کہ سوالیہ نشان ہے ،اسی وجہ سے اندرون شہر کی سڑکوں پر بھکاریوں کے مخصوص ٹولوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جو چنگ چی رکشوں پر اپنے مخصوص مقامات پر علی الصبح پہنچتے ہیں، عورتوں ، بچوں کو مسواک ، ازار بند، پنسلیں ، ٹوپیاں ، کارڈ زکوور فروخت کرنے کے بہانوں سے براجمان ہوتے ہیں ، اس طرح دن بھر شہریوں سے ہمدردیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ لمبی دیہاڑیاں لگارہے ہیں۔

شہری تنظیموں کے عمائدین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سفید پوش طبقہ جو کسمپرسی کی زندگیاں گزارتے ہوئے بھیک مانگنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ان بہروپیے بھکاریوں کی وجہ سے مستحق افراد مالی امداد سے محروم ہو جاتے ہیں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ بین الاضلاعی بھکاری گروہ کے افراد کے خلاف گداگری ایکٹ کے تحت کارروائیاں کریں تاکہ مستحق افراد کو ان کا حق مل سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button