مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صفِ اسلام میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حافظ عبدالحمید عامر

0

مکہ مرمہ: 21دسمبر بروز جمعہ مقدس سر زمین مکہ مکرمہ سعودی عرب میں ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام ’’عالمی وحدت اسلامی کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے عالم اسلام کی ممتاز مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

علمائے کرام اور دیگر اہم شخصیات نے اپنے متفقہ بیانیے میں کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا واحد حل اتحاد و یکجہتی ہے۔ سیاسی اور فکری اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کو کافر قرار دینے والے لوگ گمراہ ہیں۔ ان کا یہ عمل اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اب ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی روشنی میں امت کے مابین اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ہو گا۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت کے دشمن اسلام، مسلمانوں کے اخلاق اور اسلامی ثقافت و تمدن کے خلاف تشہیری مہم چھیڑے ہوئے ہیں، یہ لوگ اسلام سے ایسی برائیوں کو منسوب کر رہے ہیں، جن سے دین اسلام کا کوئی تعلق نہیں، علمائے اسلام کے مضبوط عزائم اور راسخ علم کے آگے اسلام کے خلاف دشمن کی تشہیری مہم بے اثر ثابت ہو گی، ان شاء اللہ۔

رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ مسلمانوں کو اختلافات ختم کر کے اپنے اندر اتحادو اتفاق پیدا کرنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کے بہت سے مقاصد ہیں، لیکن سب سے اہم ہدف مسلمانوں کے تمام فرقوں کے درمیان موجود اختلافات بتدریج کم کرکے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ جہاں تمام لوگ ایک دوسرے سے مل کر مکالمے کے ذریعے تنازعات کو حل کر سکیں۔

اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یوسف بن احمد عثمین نے کہا کہ سعودی عرب نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں تشدد اور دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آج سعودی عرب کے یہ اقدامات ان منفی رجحانات کو قابو کرنے کے لیے ایک نمونہ کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام خود کو علم کے زیور سے مسلح کرکے اسلامی معاشروں میں نفرت کا خاتمہ کریں۔ وزیر مذہبی امور پاکستان جناب پیر نور الحق قادری نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خصوصی طور پر اس کانفرنس میں شرکت کی۔

جامعہ علوم اثریہ جہلم کے رئیس و مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ویسے تو ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ نے نمایاں اقدامات کے ذریعے عالم اسلام سے خود داد و تحسین وصول کی ہے، لیکن اس انقلابی قدم نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ یہ ادارہ امت مسلمہ کا مخلص اور خیر خواہ ہے، نیز بروقت اور برموقع مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا یہ قدم وقت کی اہم کی اہم ضرورت ہے اور ہر حوالے سے قابل ستائش ہے۔

جامعہ علوم اثریہ کے مدیر حافظ احمد حقیق نے کہا کہ ہم ہر طرح سے ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے اس قدم کو سراہتے اور سلام پیش کرتے ہیں اور ہم حکومت پاکستان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہاں بھی ایسی ہی ایک کانفرنس منعقد کرے ، جس کے ذریعے معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت اور عدم برداشت کی ناخوش گواہ فضا میں ضرور کمی لائی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.