دینہ

برگروں پیزوں کے چکر میں موجودہ نسل روایتی کھانوں اور موسم کی مطابقت سے پکائی جانے والی روٹیوں سے ناآشنا

دینہ: غیر ملکی برگروں پیزوں کے چکر میں موجودہ نسل روایتی کھانوں اور موسم کی مطابقت سے پکائی جانے والی روٹیوں سے ناآشنا ہو گئی ۔ سردیوں میں جوار،مکئی،مڈھل،باجرہ،چاول اور موٹھ کے آٹا کی روٹیاں بھی پکائی جاتی تھیں ٹی وی چینلوں پر بھی غیر ملکی ڈشز کی تیاری تو سکھلائی جاتی ہیں لیکن روایتی ڈشوں کا فن کوئی نہیں بتاتا۔
پنجاب میں سردی کے آغاز کے ساتھ ہی ساگ کی فصل تیار ہوتی ہے اور کچھ دنوں بعد مکئی اور چاول کی فصل بھی پک جاتی ہے تو ساگ کے ساتھ چاول اور مکئی کی روٹیاں تیار کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، چاول کی روٹی اپنے اندر 50گرام تک دیسی گھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایک مقوی غذا کے طور پر کھائی جاتی ہے۔
اس کے بعد جوار اور باجرے کی فصل آتی ہے اور زبردست قوت بخش غذا کے طور پر ان کا استعمال شروع ہو جاتا ہے اس کے بعد مڈھل کے بیج پکتے تو جوڑوں کے درد کے شکار افراد کیلئے ان کی روٹی ایک اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بعد موٹھ کی فصل تیار ہو جاتی اور اس کی روٹی پٹھوں کی مضبوطی اور کمر کے بالائی حصہ اور گردن کیلئے انتہائی مفید ہوتی ہے۔
شدید سردی کے موسم میں بھی انسان سردی سے بیگانہ ہو جاتا ہے اسکے علاوہ چنے اور جو کی روٹی بھی پکائی جاتی ہے لیکن اب کسی کو ان کا آٹا گوندھنے کافن بھی نہیں آتا اور نہ ہی نئی نسل کی خواتین کو ان کی روٹی بنانا آتی ہے جبکہ نوجوان غیر ملکی برگرز،پیزوں اور شواارمے کے ذائقوں سے آشنا ہیں لیکن روایتی کھانوں اور روٹیوں کے ذائقوں سے قطع نظران کے ناموں سے بھی شناسا نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button