جلالپور شریف رورل ہیلتھ سنٹر میں جنگل کا قانون نافذ ، ڈسپنسر مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں ریفر کرنے لگا

0

جلالپور شریف رورل ہیلتھ سنٹر میں جنگل کا قانون نافذ ، ڈسپنسر مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں ریفر کرنے لگا، آرایچ سی کے ڈاکٹرکی عدم دلچسپی ، مریض ذلیل و خوار ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کامطالبہ۔

تفصیلات علاقہ جلالپور شریف میں قائم رورل ہیلتھ سنٹر میں تعینات ڈسپنسر صغیر نے مریضوں کے ساتھ تھانیداروں والا رویہ اپنا لیا ، علاج معالجہ کی غرض سے آنے والے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے کی بجائے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں ریفر کیا جانے لگا۔

جلالپور شریف کے رہائشی محمد یونس ولد مہدی خان نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپنی والدہ بشیراں بی بی کو تشویشناک حالت میں لیکر رورل ہیلتھ سنٹر جلالپور شریف گیا ، جہاں ڈیوٹی پر موجود صغیر نامی شخص نے میری والدہ کو چیک کرنے کی بجائے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہمارے پاس بی پی آپریٹس نہیں جس کی وجہ سے بلڈ پریشر چیک نہیں کر سکتے ، اور بلڈ پریشر وغیرہ کنٹرول کرنے کی ادویات بھی ہسپتال میں میسر نہیں ، بہتر ہے کہ اپنی والدہ کو کسی پرائیویٹ ہسپتال لے جاؤ تاکہ علاج معالجہ ہو سکے ۔ جس پر مجبوراً میں اپنی والدہ کو لیکر پرائیویٹ ہسپتال گیا جلالپور شریف جو کہ تاریخی قصبہ ہے رورل ہیلتھ سنٹر میں بی پی آپریٹس ،ادویات اور ڈاکٹرکی عدم موجودگی تشویش کی بات ہے۔

موقف جاننے کے لئے آرایچ سی جلالپور شریف کے ڈاکٹر کلیم اللہ الطاف سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ صغیر نامی شخص ہسپتال کا ڈسپنسر ہے ریکارڈ میں مریض کا نام موجود ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ مریض اس بیماری میں مبتلا تھا اس کا علاج ہوا ہے یا نہیں ، آپ مریض کو دوبارہ ہسپتال میرے پاس بھجوائیں میں چیک کر دیتا ہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.