پنڈدادنخان کے مقامی مزدور استحصال اور ظلم کا شکار ہو کر رہ گئے

0

پنڈدادنخان کے مقامی مزدور استحصال اور ظلم کا شکار ہو کر رہ گئے ۔حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم از تنخواہیں بھی ان مزدوروں کو نہیں دی جا رہی نہ ان مزدوروں کو سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ دیا جا رہا ۔ مقامی کارخانے جو کہ ایک خاص مقصد کے لیے ضلع چکوال کا حصہ بنا دے گئے ہیں۔ان مزدوروں کو کسی بھی قسم کی سہولیات دینے کو تیار نہیں۔

مزدوروں کی اس حق تلفی میں جہاں قانونی موشگافیوں کا سہارا لیا جاتا وہاں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں کا بھی تعاون حاصل کیا جاتا ہے۔یہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ادارے زبانی جمع خرچ کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔دوران ڈیوٹی مزدور اگر حادثہ کا شکار ہو کر زخمی ہو جائے یا خدانخواستہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اس کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔

اب مزدوروں کا استحصال کرنے کا ایک نیا طریقہ لبیر ٹھیکیدار کے نام سے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ باہر لبیر ٹھیکیدار مزدوروں کے ساتھ بیگار کیمپ جیسا سلوک اختیار کر دیے ہیں آج بھی ان لبیر ٹھیکیداروں کے پاس مزدور آٹھ سے دس ہزار تنخواہ پر ہر کام کرنے پر مجبور ہیں اور ن چھٹی نہ میڈیکل نہ سوشل سکیورٹی اور نہ ہی اولڈ ایج بینیفٹ مل رہا۔

مزدور جو کہ ملکی صنعت چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کے ساتھ یہ رویہ شرمناک اور تبدیلی سرکار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔مزدروں کے اس استحصال اور ظلم میں سرمایہ داروں، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مقامی سفید پوش اور رہنما بھی برابر کے شریک ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.