پختہ ارادے منزلیں آسان — تحریر: چوہدری سہیل عزیز

0

جب ارادے پختہ ہوں تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں،چند روز قبل راقم الحروف اپنے قلم قبیلہ کے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کے واحد ڈاؤن سنڈ روم ادارہ میں ایک پریس بریفنگ میں موجود تھا اس موقع پر جو شخص پریس بریفنگ دے رہا تھا اس کا تعلق بھی شہیدوں غازیوں کی سرزمین جہلم سے ہی تھا،جس کا نام جلال اکبر ڈار ہے۔

جب سے اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ڈاؤن سنڈروم بچے سے نوازا اس کی کل کائنات وہ بچہ ہی ہے المیہ یہ تھا کہ لوگ ایسے بچوں کو سائیں کہہ کر پکارتے تھے یا سپیشل سکولوں میں ان کا داخلہ کرواتے مگر ان بچوں کی معذوری ان سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم و تربیت صحیح نہ ہو پاتی اور وہ کچھ عرصہ بعد ہی اس سکول سے بھی محروم ہو جاتے۔

جلال اکبر ڈار سے میرا تعلق آج کا نہیں بلکہ اس وقت کاہے جب 30سال پہلے اس کا گارمنٹس کا کاروبار تھا اور یہ خوبرو نوجوان دنیا کی تمام آسائشوں کا حامل تھا مگر اس وقت بھی دولت کے باوجود اس کے دل میں درد تھا اور یہ اپنے شہر جہلم کو خوبصورت اور صاف بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھاتا رہتا،پھر اچانک کایا ہی پلٹ گئی جلال اکبر کی سوچ کا محور مرکز اپنے بیٹے بلال کی وجہ سے ڈاؤن سنڈ روم چائلڈ بن گئے،جلال اکبر ڈار جو کہ اپنے بیٹے کو بلال صاحب کہہ کر پکارتے ہیں اس میں بھی کوئی حکمت ہے ۔

جلال اکبر ڈار نے اپنے کاروبار کو خیر آباد کہااور اپنی جائیداد جو دریائے جہلم کے خوبصورت کنارے پر تھی اس کو ڈاؤن سنڈروم بچوں کے کمپلیکس میں بدل دیا،وہ گلیوں ،محلوں ،قصبوں اور شہروں میں ساراسارا دن ڈاؤن سنڈ روم بچوں کی تلاش میں رہتا ان کی مخصوص نشانیوں سے متعلق پمفلٹ تقسیم کرتا اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے تجربہ کار سٹاف کا بندوبست کیا۔

جلال اکبر نے کروڑوں روپے اس ڈاؤن سنڈ روم کمپلیکس پر خرچ کیے ہیں جس میں اس کی اپنی جمع پونجی کے علاوہ حکومت پنجاب اور دیگر درد دل رکھنے والوں کی طرف سے ڈونیشن ہیں ،اب ایک اور مقصد لے کر یہ شخص نکل پڑا کہ میں نے اس معذوری کو پاکستان میں پانچویں معذور ی کا سرکاری طور پر درجہ دلوانا ہے تاکہ ڈاؤن سنڈ روم بچوں کے علیحدہ سکول ملک کے کونے کونے میں ہوں اور ان بچوں کو معاشرے کا فعال فرد بنایا جا سکے۔

اس سلسلہ میں جلال اکبر اس سے قبل پاکستان کے تقریبا 52اضلاع کا وزٹ کر چکا ہے اور وہاں ڈاؤن سنڈ روم بچوں کے متعلق آگاہی کے درجنوں پروگرام بھی اس کے علاوہ جلال اکبر کا پیغام امن ہے جلال اکبر ڈار نے سب سے پہلے اپنی ذات کی نفی کی یہاں تک کہ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات کی خاطر اگر کوئی مشکل آئی تو اپنے ہی شہر کے لوگوں سے جھولی پھیلا کر بھیک تک مانگی،اس سے بڑھ کر اور کیا عاجزی کی دلیل ہو سکتی ہے،اس شخص کو اللہ کی ذات پر یقین ہے جب رب کی ذات پر یقین محکم ہو جائے تو کوئی منزل مشکل نہیں رہتی راستوں کی دشواریاں پھولوں کی سیج محسوس ہوتی ہیں۔

جلال اکبر کی میڈیا کو اپنے ادارہ میں بریفنگ کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ جہلم کے میڈیا کو آگاہ کر سکیں کہ وہ ایک ایسا کام کرنے جارہا ہے جس کا مقصد نہ صرف وطن عزیز کے موجودہ حالات میں امن کا پیغام دینا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کونے کونے میں ڈاؤن سنڈ روم بچوں سے متعلق آگاہی بھی اس کی اولین ترجیح ہے۔

اس سلسلہ میں جلال اکبر ڈار نے ایک اور قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے 130اضلاع میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا آل پاکستان مشن کارواں،’’ کارواں پاکستان‘‘ لے کر جائے گا جس میں اس کے ادارہ کے ڈاؤن سنڈ روم بچوں کے علاوہ سکول کا سٹاف بھی شامل ہوگا جس کی قیادت امن کے سفیر ڈاؤن سنڈ روم چائلڈ بلال صاحب کریں گے،اور اس مشن کے دوران صدر،وزیراعظم،تمام گورنر تمام وزراء اعلیٰ کو ڈاؤن سنڈ روم سپیشل بچوں کو پاکستان میں سرکاری طور پر پانچویں معذوری قرار دینے کی درخواست پیش کی جائیگی اور امن کا پرچم بھی پیش کیا جائیگا۔

اس سے قبل پاکستان میں چار قسم کی معذوریاں ہیں جن میں ذہنی معذوری،جسمانی معذوری،نابینا اور گونگے بہرے بچوں پر سرکاری طور پر کام ہور ہا ہے ۔حالانکہ عالمی ادارہ اقوام متحدہ ڈاؤن سنڈ روم سپیشل بچوں کو علیحدہ معذوری تصور کرتا ہے، معذوری کا عالمی دن 3دسمبر ہے جبکہ ڈاؤن سنڈ روم سپیشل بچوں کا عالمی دن 21مارچ ہے جہلم سے روانہ ہونے والا یہ کاروان اہلیان جہلم کی نمائندگی کرے گا،اور یہ جہلم کے باسیوں کو ہی اعزاز حاصل ہوگا کہ ایسا مشن اس معذوری کے متعلق پاکستان بھر میں پہلی دفعہ ہوگا،جس کا سہرا جہلم کے ایک سپوت کے سر ہوگا۔

یہ کاروان جس ضلع یا شہر میں جائے گااس ضلع کے باسیوں کوآل پاکستان مشن کارواں،’’ کارواں پاکستان‘‘ کے کی جانب سے امن کا جھنڈا پیش کیا جائے گااور ان کے پریس کلب کا وزٹ کیا جائیگا ،اس کے ساتھ ساتھ اس شہر کے بڑے مشہور چوک میں ڈاؤن سنڈ روم سپیشل بچوں کا آگاہی کیمپ بھی لگایا جائے گا،شہر کے بڑے چوک میں امن کے سفید جھنڈے لہرائے جائیںگے۔

شہر کی اہم شاہراؤں پر ’’امن پاکستان کا رواں‘‘ گشت کریگا۔اور امن پرچم دینے کی تقریب شہر کے مشہور چوک ،پارک یا ہال میں منعقد کی جائیگی جس میں صحافی تنظیموں ،تاجر، وکلاء، ڈاکٹرز، ادیب، شاعر، طلباء و طالبات ،شہریوں، سپیشل بچوں اور خصوصی طور پر ڈاؤن سنڈ روم سپیشل بچوں کو ضرور مدعو کیا تاکہ ڈاؤن سنڈ روم بچوں کے متعلق آگاہی کے عمل کومزید تقویت دینے میں وہ اپنا کردا ر ادا کرسکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.