دریا کنارے کچی آبادی کی آڑ میں کروڑوں روپے کی کمرشل زمین پر بااثر افراد کا قبضہ

0

جہلم: دریا کنارے کچی آبادی کی آڑ میں کروڑوں روپے کی کمرشل زمین پر بااثر افراد کا قبضہ ، ڈپٹی کمشنر جہلم، چیئرمین میونسپل کمیٹی کے لئے بڑا سیاسی چیلنج ، بااثر سیاسی شخصیت نے محکمہ ا نہار کی زمین پر کوٹھیاں ، بنگلے تعمیر کرکے کرایہ پر چڑھا دئیے ، قبضہ مافیا عدالت سے حکم امتناعی لینے کے چکر میں ادھر اُدھر۔

تفصیلات کے مطابق جہلم دریا کنارے کچی آبادی کے نام پر بااثر افراد نے کوٹھیاں ،بنگلے ،پلازے ، ڈیرے قائم کررکھے ہیں ، ڈپٹی کمشنر نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تجاوزات ختم کروانے کی بجائے دکانداروں کے شٹر اور تھڑے توڑنے شروع کر رکھے ہیں۔

شہر میں موجود بڑی مچھلیوں اور مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہیں جسکی ایک مثال جہلم دریا کنارے محکمہ انہار کی قیمتی اراضی محکمہ ریلوے کی اندرون شہر واقع اراضی ، محکمہ اوقاف کی اراضی پر بااثر افراد نے قبضے جمارکھے ہیں ، جسے محکمہ انہار ، محکمہ اوقاف ، محکمہ ریلوے کے افسران کی قبضہ مافیا کو مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور سرکاری اراضی واگزارکروانے کے وقت سرکاری افسران و اہلکار قبضہ مافیا کی رہنمائی کرتے ہیں جس کیوجہ سے سرکاری ادارے قبضے واگزار کروانے میں بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔

جہلم کے شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میونسپل کمیٹی کے عملے نے ایک مرلہ بھی سرکاری اراضی واگزار نہیں کروائی بلکہ غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں کے شٹر اور تھڑے توڑ کر سب اچھا ہے کہ رپورٹس کی اعلیٰ افسران کو بجھوا کر انکی آنکھوں میں دھول جھونک دی ہے ۔

شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیراعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی جو کہ قبضہ مافیا کے نرغے میں ہے کو واگزار کروانے کے لئے خصوصی سکوارڈ قائم کیاجائے تاکہ سرکاری اراضی واگزار کرواکے متعلقہ محکموں کے حوالے کی جائے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.