ضلع جہلم کے تھانے شہریوں کی گاڑیوں کے قبرستان بن گئے، قیمتی گاڑیاں کھڑی کھڑی برباد

0

جہلم: ضلع بھر میں کروڑوں روپے مالیت کامال مسروقہ جن میں موٹر سائیکلیں، کاریں اور ہیوی وہیکلز شامل ہیں تھانوں میں پڑی پڑی کباڑ کی شکل اختیار کر چکی ہیں جبکہ نئی آنے والی حکومت نے سابقہ وزیراعظم کے زیر استعمال قیمتی گاڑیاں اور اعلیٰ نسل کی بھینسیں تک نیلام کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگا۔

حکومت پنجاب کو چاہیے کہ جہلم سمیت صوبہ بھر کے تھانوں میں موجود قابل نیلام مال مسروقہ کی نیلامی کرکے حکومتی ریونیو میں اضافہ کرے، کیونکہ پولیس ایکٹ 2002 ء کے تحت لاوارث مال مسروقہ کو 6 ماہ بعد نیلا م کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان موٹر سائیکلز ، کاروں اور دیگر وہیکلز سے قیمتی سامان تبدیل یا چوری کیا جاتا ہے ۔

یاد رہے کہ صرف ضلع جہلم کے 11 تھانوں اور 5 پولیس چوکیوں میں سینکڑوں موٹرسائیکل اور درجنوں کاروں سمیت دیگر ہیوی وہیکلز شامل ہیں ، عرصہ دراز سے نیلامی نہ ہونے کیوجہ سے ان جگہوں پر گھاس اور دیگر خودرو پودے تک اُگ آئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جہلم سے چوری شدہ گاڑیاں دوسرے شہروں اور دوسرے شہروں کی چوری شدہ گاڑیاں جہلم میں خرید و فروخت کی جاتی ہیں ، کمپیوٹر کے موثر نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے شہروں سے چوری شدہ گاڑیوں کی روک تھام کسی حد تک ممکن ہو سکتی ، جسکا افسران بالا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اگر آنے والے دنوں میں کروڑوں روپے کی مال مسروقہ کی نیلامی کی جائے تو حکومتی ریونیو میں قابل قدر اضافہ ممکن ہو سکتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.