پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
64,028
+2,801 (24h)
اموات
1,317
+57 (24h)
صحت یاب
22,305
34.84%
زیر علاج
40,406
63.11%
کالم و مضامین

کورونا وائرس؛ ہم محفوظ ملک ہیں

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مطلب ہی اس کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت ہے راقم سمیت بہت سے پاکستانیوں نے حالیہ وباء کورونا کے حوالے سے پاکستان کو محفوظ ملک تصور کر رکھا ہے اس میں شک بھی نہیں کہ الحمداللہ ملک پاکستان کرونا جیسے مرض سے اب تک ایک محفوظ ملک ہی ہے لیکن یہ ملک محفوظ تب رہ سکتا ہے جب ہم سب بحیثیت قوم اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اس وقت ہمیں حاکم وقت کے ہر فیصلے کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔

سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کی بجائے حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے گھروں سے غیر ضروری نکلنے سے اجتناب کرنا ہو گا بغیر تصدیق کسی سنی سنائی کہانی پر عمل کرنے اور اس سے لوگوں میں افراء تفری پھیلانے کی بجائے ہمیں اپنی مقامی انتظامیہ اور سرکاری ذمہ داران کے پیغام پر عمل کرنا ہو گا۔

جہاں تک سوال ہے ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا تو اس کے لیے ہمیں جنگی بنیادوں پر انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہو گا اب تک کے مشاہدے کے مطابق پاکستان میں جتنے بھی کورونا کے مریضوں کا انکشاف ہوا ہے ان میں سے ایک بھی مریض ایسا نہیں جو پاکستان سے ہو تمام مریض وہ ہیں جو بیرون ملک سے پاکستان آئے ہیں ہمیں اپنی حکومت پر یقین رکھنا ہو گا کیونکہ حکومتی ایوانوں سے آنے والے فیصلے کسی فرد واحد کی ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ایک پوری ٹیم اور ذمہ داری کا احساس کرنے والوں کی مشاورت سے آتے ہیں ہمیں اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ تحمل مزاجی اور اپنی انتظامیہ پر اعتماد اور یقین قائم کرنا ہے۔

آج کے جزوی لاک ڈاؤن کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم ضرورت سے زیادہ اشیاء کو گھروں میں جمع کرنا شروع کر دیں ہمیں اس چیز کا احساس کرنا ہو گا کہ ہم نے کسی صورت ایک غریب دیہاڑی دار جس کی استطاعت اگر پاؤ آدھا کلو کی ہے اس کے لیے نہ اپنی اشیائے ضرورت کو مہنگا کروانا ہے اور نہ کسی بنیادی ضرورت کی اشیاء کا بحران پیدا ہونے دینا ہے جزوی لاک ڈاؤن سے ہر گز ہماری زندگی کی بنیادی ضرورت کی چیزوں کو بند نہیں کروایا گیا ہے اگر کپڑے۔برتن۔جیلوری۔جوتے فاسٹ فوڈ۔منیاری کی دکانوں کو بند کروایا گیا ہے تو اس میں ہی ہم سب کی بہتری ہے کیونکہ ہمیں اس وباء سے نمٹنے کے لیے ہجوم سے اجتناب کرنا ہو گا۔

راقم کا ذاتی خیال اب بھی یہی ہے کہ الحمداللہ ہم اس وباء سے محفوظ ہیں اور اب تک اللہ کے فضل اور خصوصی کرم سے ہم اس وقت بھی اس وباء سے محفوظ ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس وباء سے بچنے کی تدابیر بھی اپنانی ہونگی تاکہ مستقبل میں بھی ہم خود کو اس سے محفوظ رکھ سکیں۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ماسک اور سنٹلائزر کا استمعال ضروری ہیں لیکن گنتی کے مافیا کی وجہ سے اس کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے گھبرانے کی بجائے ہمیں دستیاب متبادل آپشن استعمال کرنے کی ضرورت ہے ہم گھر میں بھی کپڑے کے ماسک کو خود تیار کر سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان گھروں کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے جہاں روزانہ کی اجرت سے گھروں کے چولہے جلتے تھے۔

ہمیں افراء تفری اور پریشانی سے دوچار ہونے کی بجائے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے اور ہم نے اگر اپنے لیے دو کلو اضافی ضرورت کی اشیاء خریدی ہے تو ہم نے کم از کم ایک کلو اپنے کسی غریب ہمسائے کے لیے بھی خریدنی ہے تاکہ کوئء اپنے بچوں کو بھوکا نہ سلا سکے ہمیں حاکم وقت کے فیصلوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے رب کے فضل اور کرم کو بھی حاصل کرنے کی جستجو کرنی ہے اور اس پر یقین کامل رکھنا ہے کہ وہ اپنے پیارے محبوب کے امتیوں کو اس آفت سے مصیبت سے محفوظ رکھے گا۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم نے ماسک اور سنٹلائزر مافیا نہیں بننا ہم نے جزوی لاک ڈاؤن سے پریشان ہو کر گھروں میں غیر ضروری اشیائے خوردو نوش کو جمع نہیں کرنا ہم نے قلت پیدا نہیں ہونے دینی کیونکہ ہزاروں روپے کی خریداری والے چند لوگوں نے سینکڑوں روپے کی خریداری کرنے والوں کو مایوس نہیں ہونے دینا اللہ پاک ہمارے اس وطن عزیز کو اس وباء سے محفوظ رکھے اور جن کو عزتوں سے نوازا ہے ان کو اس وباء سے جنگ جیتنے کی ہمت حوصلہ اور توفیق دے کیونکہ رب جس کو عزت دیتا ہے اسی کو حاکم وقت بناتا ہے ہمیں سیاسی اختلافات بھلا کر یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم مل کر اس جنگ سے لڑنا ہے اور دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close