کالم و مضامین

مرگِ شباب

تحریر: ظفرغوری

اللہ کریم نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ’’ہر ذی نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ‘‘ ۔ ایک اور آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ‘‘ ۔ صدیوں سے زمانے کا یہ دستور رہا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے وہ اپنے وقت مقررہ پر اس دنیا سے اگلی منزل کی جانب کوچ کرگیا۔

یہ سلسلہ ازل تا ابد جاری رہے گا۔ کوئی بھی ذی روح ایسا نہیں جو ہمیشہ زندہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وہ واحد ذات ہے جو غیر فانی ہے ۔ صرف اسی ذات کو بقا ہے باقی سب فنا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ایک طرح سے بے بسی کی سی حالت میں ہوتا ہے اوراپنی مرضی سے کوئی کام کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ پھر بتدریج وہ نشوونما کے مراحل طے کرتے ہوئے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر طے کرتا ہے۔

بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ انسان بہت مختصر سی زندگی لے کر اس دنیا میں آتے ہیں اور چند پل، چند دن ، چند ہفتے، چند مہینے یا پھر چند برس گزار کر اپنے رب کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔ تاہم جب کوئی انسان عین عالم شباب میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو پھر پیچھے رہ جانے والے اسکے پیارے اس کی جدائی کا صدمہ بڑی مشکل سے سہہ پاتے ہیں۔وہ زندگی کے کچھ برس جو اس دنیا میں گزارتا ہے اس میں وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ معاملات زندگی سرانجام دیتا ہے۔

اگر کسی کا وقت دوسروں کو تکالیف اور رنج دینے میں گزرا ہوتو کوئی بھی اس کے اس دنیا سے چلے جانے پر رنجیدہ خاطر نہیں ہوتا مگر جب کسی نے دوسرے لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک کا برتائوکیا ہوتا ہے تو ایسے شخص کے اس دنیا سے چلے جانے کا غم کبھی کم نہیں ہوتا۔ اس کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہوجاتاہے۔اسکے پیارے اس کی جدائی میں ہر وقت آنسو بہاتے رہتے ہیں اور اسکی باتوں کو یاد کرکر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب کوئی ہنستا مسکراتا چہرہ اچانک اس دنیا سے گم ہوجاتا ہے تو اس کی کمی کا احساس انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرنے لگتا ہے۔ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں نوجوان جو اچانک اپنے پیاروں کو اداس چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوئے ان کی یادیں ہمشہ دلوں میں نقش رہتی ہیں۔

ایسے ہی ایک ہنس مکھ نوجوان راجہ ادریس بھی چند ہفتوں قبل اچانک اس دار فانی سے رخصت ہوئے تو انکے عزیزواقارب کے علاوہ بستی دیوان حضوری کی ہر آنکھ اشکبار ہوگئی ۔صوبیدار( ر )راجہ شیر علی کے گھر میں جنم لینے والے راجہ محمد ادریس نے اپنی انچاس سالہ زندگی بھرپور انداز میں گزاری اور اپنے عمدہ اخلاق وکردار سے بستی کے ہر فرد کے دل میں اپنی جگہ بنائی۔ خاص طور پہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ انتہائی محبت آمیز روئیے کی بناء پر بے حد مقبول تھے۔

راجہ ادریس بچپن سے ہی پڑھائی کے علاوہ مختلف کھیلوں میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔ قومی وبین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں کے علاوہ پنجاب کے روایتی کھیل کبڈی کے میچوں کو دیکھنے کے دلدادہ تھے۔ اس کے علاوہ خود بھی بچپن سے ہی کرکٹ اور والی بال کے بہترین کھلاڑی رہے۔کرکٹ میں ان کا شمار اپنے علاقہ کی ٹیم کے بہترین آل رائونڈرز میں ہوتا تھا۔

دوسری جانب والی بال کے میدان میں بھی انہوں نے اپنا خوب نام کمایا۔ وہ راولپنڈی کے والی بال کے معروف اصغر کلب کے کپتان بھی رہے۔ حصول رزق کے لئے وہ محکمہ صحت کے ایک اہم ادارے میں ملازمت بھی کرتے تھے۔جنوری 2021ء کا دوسرا عشرہ انکے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔

جب وہ اچانک گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوگئے اور چند روز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 24جنوری 2021ء کی صبح اچانک خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی ناگہانی موت کی خبر جہاں انکے والدین، بیوی بچوں اور دیگر عزیزواقارب کے لئے سوہان روح تھی وہیں بستی دیوان حضوری کے رہنے والے ہر فرد کے لئے ناقابل یقین تھی۔

انکی نماز جنازہ میں علاقہ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اشکبار آنکھوں سے انکو سپر د لحد کیا۔راجہ ادریس اب منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں مگر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں انمٹ یادیں چھوڑ گئے ہیں۔انکے پیارے انکو یاد کرکے آنسو بہاتے ہیں۔ انکا سب سے چھوٹا بیٹا عثمان آج بھی اپنے باپ کی راہ دیکھتا ہے ۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا شفیق باپ تو اب ایک ایسی منزل کا راہی ہوچکا ہے جہاں جانے کا راستہ تو ہے لوٹ کر آنے کا نہیں۔

اللہ کریم کے حضور دعا ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں راجہ ادریس کی قبروحشر کی منازل آسان فرمائے اور انکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور انکے تمام لواحقین کو صبر جمیل اور اس پہ اجر عظیم عطا فرمائے! آمین !

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button