چھ ماہ بعد سول ہسپتال سوہاوہ میں شروع ہونے والے آپریشن ایک بار پھر التواء کا شکار

0

سوہاوہ: چھ ماہ بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ میں شروع ہونے والے آپریشن ایک بار پھر التواء کا شکار ہونے لگے، چھ ماہ سے انتھیسیا اسپیشلسٹ کی خالی سیٹ پر تعینات ہونے والے ڈاکٹر ظفر اللہ کو ایک بار پھر جہلم ڈی ایچ کیو میں عارضی ٹرانسفر کر دیا گیا جس کی وجہ سے سوہاوہ تحصیل کی واحد ٹی ایچ کیو ہسپتال میں آنے والے غریب مریض بے یارو مدد گار پرائیوٹ ہسپتالوں میں جانے ہر مجبور ہو گئے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سوہاوہ کی عوام کے ساتھ نا انصافی کے خلاف شہری سراپا احتجاج آئے روز ہسپتال میں ڈاکٹروں کے ساتھ بدتمیزی اور لڑائی جھگڑے ہونے لگے، میڈیا کے آواز اٹھانے پر خصوصی طور پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے سوہاوہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں انتھیسیا اسپیشلسٹ کی خالی سیٹ پر ڈاکٹر ظفر اللہ کو کنٹریکٹ پر تعینات کیا جس کے بعد سوہاوہ ہسپتال میں آپریشن کا سلسلہ شروع ہوا لیکن دو ہفتوں بعد ہی ڈاکٹر ظفر اللہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم میں عارضی ٹرانسفر کر دیا گیا اور سوہاوہ کی عوام کیلئے آپریشن کی سہولت ختم کر دی گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ ی ذاتی دلچسپی سے دوبارہ ایک ہفتہ بعد ہی ڈاکٹر ظفر اللہ کو واپس سوہاوہ بھیج دیا گیا لیکن آج دوبارہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈاکٹر ظفر اللہ کو جہلم بلوایا جا رہا ہے جس پر دور دراز سے آئے ہویے مریضوں کے آپریشن ملتوی کر دیے گئے اور بالخصوص سی سیکشن کے تمام مریضوں و سخت پریشانی کا سامنا ہے اور غریب اور مستحق مریض پرائیوٹ ہسپتالوں میں سی سیکشن کروانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر جہلم اور ایم پی اے راجہ یاور کمال سے اپیل کی ہے کہ سوہاوہ کی عوام کے ساتھ اس زیادتی کا ازالہ کیا جائے اور سوہاوہ ٹی ایچ کیو کے لیے تعینات ہونے والے ڈاکٹر کی بجائے جہلم میں موجود انتھیسیا اسپیشلسٹ سے کام لیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.