جہلماہم خبریں

درجنوں خواتین نے شوہروں اور سسرال کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر عدالت میں دعوے دائر کر دیئے

جہلم: درجنوں خواتین نے شوہروں اور سسرال کے نارواسلوک سے تنگ آکر اپنے الگ الگ تنسیخ نکاح، سامان جہیز و حق مہر واپسی اور خرچہ نان و نفقہ کے دعوے دائر کر دیئے جبکہ متعدد مردوں نے بھی روٹھی بیویوں کو منانے کے لئے آبادکاری کے دعوے دائر کررکھے ہیں۔

جہلم اپڈیٹس کے سروے کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک درجنوں خواتین نے اپنے حقوق کے سلسلہ میں فیملی عدالتوں میںالگ الگ حق مہر واپسی ، سامان جہیز واپسی اور شوہروں کی طرف سے خرچہ ادا نہ کرنے پر دعوے دائرکر رکھے ہیں اور اپنے اپنے شوہروں سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے تنسیخ نکاح کے دعوے بھی دائرکر رکھے ہیں۔

دعوؤں میں موقف اختیار کیا گیا کہ شادی شریعت محمدیؐ کے مطابق ہوئی شادی سے قبل شوہروں نے خود کو کنوارہ ظاہر کیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ ہیں اور جوان بچوں کے باپ ہیں دوسرا نندیں اور ساس بھی اچھا برتاؤ نہیں کرتیں ، فیملی عدالتوں سے خواتین نے استدعا کی ہے کہ داد رسی کرتے ہوئے انصاف فراہم کیا جائے۔

ادھر متعدد مردوں نے اپنے اپنے الگ الگ دعوے دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ شادی کے بعد بیویوں کا ہر طرح سے خیال رکھا کیا لیکن اس کے باوجود بیویاں روٹھ کر اپنے اپنے والدین کے گھروں میں جا کر بیٹھ گئیں جن کو منانے کے لئے جرگے بھیجے ، معززین کو بھیجا لیکن نہ مانیں عدالت سے استدعا ہے کہ ان کو آباد کرنے کے لئے احکامات دئیے جائیں عدالتوں نے متاثرہ خواتین اور افراد کے دعوے منظورکرکے کیسوں کی سماعت شروع کررکھی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button