جہلماہم خبریں

این اے 66 کا ٹکٹ فرخ الطاف کو دینے پر تحریک انصاف میں زبردست بغاوت

جہلم: ضلع جہلم کے متنازعہ حلقے این اے 66کا ٹکٹ فرخ الطاف کو دینے پر تحریک انصاف میں زبردست بغاوت ،،ضلعی رہنما چوہدری ثقلین اور سابق ضلعی صدر چوہدری زاہد اختر نے کاغذات جمع کروا دئیے ، سیٹ جیتنے کا امکان ختم ، لدھڑ والوں کو پریشانی ، چوہدری فواد کی اپنے آبائی حلقے میں گرفت کمزور،چوہدری فرخ کے خلاف نفرت کا کھلا اظہار، پی ٹی آئی قیادت کے فیصلے کو چیلنج،پی ٹی آئی کی لڑائی ن لیگ چھٹی بار کلین سویپ کا خواب پورا کر سکتی ہے ،تحریک انصاف کے مختلف گروپوں میں زبردست کشمکش، چوہدری ثقلین گروپ کا ایم پی اے کا الیکشن لڑنے سے انکارووٹ بینک بکھرنے لگا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے اہم ترین حلقہ این اے 66میں کئی روز کی کشمکش کے بعد سابق گورنر پنجاب چوہدری الطا ف کے صاحبزادے اور سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اسی ٹکٹ کے امیدوار سابق ایم پی اے چوہدری ثقلین کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر دیا گیا۔یاد رہے کہ چوہدری فرخ الطا ف تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان چوہدری فواد کے کزن اور سابق گورنر پنجاب کے جانشین ہیں ۔ چوہدری فرخ الطا ف کو ٹکٹ ملنے پر ان کے حمایتی گروپوں میں جشن کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

دوسری طر ف سابق ایم پی اے چوہدری ثقلین نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے سے انکار کرتے ہوئے آزاد حیثیت میں اپنا گروپ بنانے اور چوہدری فرخ الطاف کے خلا ف الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے چوہدری ثقلین کی جانب سے بغاوت کا اعلان کرنے کے بعدسابق ضلعی صدر پی ٹی آئی جہلم چوہدری زاہد اختر نے جس سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان ہے اور چوہدری فرخ الطاف و چوہدری ثقلین کی کشمکش کا فائدہ اس حلقے سے ن لیگ کے امیدوار کو ہو گا ۔ قیاد ت کے اس فیصلہ سے کارکنوں کی بڑی تعداد گومگو کی کیفیت میں ہے اور ان کیلئے کسی ایک امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے ۔

دوسری طرف تحریک انصا ف میں ایک ہی خاندان کو دو ٹکٹ دینے پر پیدا ہونے والی بغاوت کے بعد حلقہ میں عرصہ دراز سے برسر اقتدار ن لیگی امیدواروں کی برتری یقینی ہو چکی ہے ۔ جبکہ اس فیصلہ کے بعد این اے 67سے الیکشن لڑنے والے چوہدری فواد حسین کی ضلع میں سیاسی حالات پر گرفت انتہائی کمزور ہو گئی ہے اور مختلف گروپ ایک دوسر ے کے خلا ف خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے ہیں جس سے نچلے لیول پر تنظیمی صلاحیت سے محروم تحریک انصاف کو سخت سیاسی جھٹکا لگنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔

تجزیہ کا روں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے متعلق یہ بات عام ہے کہ اس میں لیڈر زیادہ اور کارکن کم ہیں جس کا ثبوت الیکشن سے قبل ہی سامنے آ گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. اس بات میں کوئی دو راے نہیں ہے کہ اگر ٹکٹ چوہدری ثقلین کو دیا جاتا تو کامیابی 80% یقینی تھی۔لیکن اب پی ٹی آئی کمزور پوزیشن میں چلی گی ہے کیونکہ چوہدری فرخ الطاف کا دور لوگوں کو ابھی تک بھول نہیں گیا جب وہ دور میں ضلع جہلم کے ق لیگ کے ناظم بنے تھے اس دور میں زمینوں پر زبردستی قبضے بھتہ جیسے جرائم کو تقویت ملی تھی۔لیکن دوسری طرف ندیم خادم نے بھی یہی روپ اپنایا ۔وقت کا تقاضہ ہے کہ جہلم کے لوگ کسی نئی شخصیت کو منظر عام پر لاہیں ورنہ جہلم ایک دفعہ پھر تاریکی میں چلا جاے گا۔جہلم اس وقت مجموعی طور پر ضلع تھرپارکر ۔رحیم یار خان۔ڈیرہ غازی خان۔پنجگور۔آوران۔سبی۔جکیب آباد۔شکار پور۔سکھر۔ٹنڈواللہ یار۔سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔جاگو جہلم کے غیور لوگوں اور نا منظور کر دو روایتی سیاستدانوں کو وہی تھکے ھوے چہرے وہی کرپٹ لوگ پارٹی وابستگی سے بالاتر ھو کر کوئی ایسا پڑھا لکھا چہرہ سامنے لاو جو جہلم اور تمہارے بچوں کا مستقبل ھو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button