کالم و مضامین

حضرت علامہ مولانا خادم حسین رضوی ؒ

تحریر: پیر سید دلدار علی شاہ ( آستانہ عالیہ دیوان حضوریؒ )

سچا عاشق رسول، پیکر محبت رحمۃََ اللعالمین ﷺ، پاسبان ناموس رسالت ﷺ،مجسمہ حب نبی ﷺ ، سرفروش،نڈر بے باک ،عقاب نگاہ ،جبل استقامت ،قائد لاجواب و بے مثل، اہل سنت کی آنکھ کا تارا،طوفانوں آندھیوں اور اسلام دشمنوں کی یلغاروں میں لبیک یارسول اللہ کا لازوال ایقان پرور جنت نواز نعرے سے ملت اسلامیہ کے قلب و روح میں حرارت جاوداں پیدا کرنے والا مجاہد شیخ الحدیث ،اقبال کا مرد مومن، مرد کامل ،مرد حق آگاہ ،مرد حق پرست انسانیت کی آن بان شان حضرت علامہ مولانا خادم حسین رضوی خالق حقیقی سے جا ملے ‘‘ (انا لِلّٰہ وانا الیہ راجعون )

آئین جواں مرداںحق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

اس دور ابتلا میں حب اہل حق کے خلاف مغربی قوتیں متحدہ محاذ بنا کر اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں جب حکومتوں کے سربراہ ہمارے کریم آقا ﷺکی ناموس پہ ناپاک عزائم کا سرکاری اظہار کریں، لاہور کی ایک چھوٹی سی مسجد سے مفکر پاکستان کا فکری وارث چلا کر کہتا ہے ہم ناموس رسالتﷺ کے لئے اپنی جان مال اولاد اور ہر چیز قربان کر سکتے ہیں انُکی زندگی کا ایک ہی محبوب نعرہ لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ ملت اسلامیہ کا مقبول ترین وظیفہ بن گیاہے۔
انہوں نے پاکستان کی نوجوان نسل کو قربت رسول ھاشمی ﷺ کی لذتوں سے آشنا کیا اور پیغام اقبال کی عملاََ تجدید کی انہوں نے انتہائی قلیل عرصہ میں مذہب و سیاست میں اوج کمال حاصل کیا اور اُنُکے عزم و ولولہُ اور قوت ایمانی کو جیل کاجبر و استبداد گولیوں کی گھن گرج ،گیس کے شیل اور اپنوں اور غیروں کے الفاظی نشتر پایہ استقلال کو نہ ہلا سکے اس لیے کہ وہ مرقع عشق مصطفی ﷺ تھے۔

’’ہر گز نہ میںرد آں کس زندہ شد بعشق‘‘

علامہ خادم حسین رضوی آئین خداوندی پہ لبیک کہتے ہوئے دارلفنا سے عالم بقا کو کوچ کر گئے اس لئے کہ قانون ازلی کل نفس ذائقۃ الموت ط برحق ہے، اٹل ہے ،لیکن زندگی کی حقیقی لذتوں کو جس احسن انداز میں انہوں نے حاصل کیا وہ فقط نگاہ تقدیر سا ز مصطفی کریم ﷺ کا ہی کرم تھا ۔
انہوں نے اپنے اہداف مکمل حاصل کیے اور ملت کو راہ منزل حق سے آگاہ کیا۔ ان کا نصب العین ان کا منشور ان کا پیغام ا ن کی جدو جہد ، ان کی تحریک ناموس و مقام رسالت ﷺ ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی اور قیامت تلک آنے والی پاکستانی نسلیں لبیک یارسول اللہ کا نعرہُ لگاکر بارگاہ رسالت پناہ میں اپناخراج تحسین پیش کرتی رہیں گی جس سے ان کی روح کوطمانیت ملتی رہے گی ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا چمن میں دیدہ ور پیدا

اللہ ملت پاکستانیہ کی دستگیری کرے اور عشق محبت رسول مختار ﷺ سے سرشار نیا قائد عطا کرے جو ان کے مشن کوزند ہ رکھ سکے آمین!!

سدا بہار دیویں ایس باغے کدی خزاں نہ آوے
ہون فیض ہزاراں تائیں ہر بکھا پھل کھاوے

 
 
 
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button