پہلے پانی لاؤ نلکوں میں ۔ پھر تم آنا حلقوں میں — تحریر: سلیمان شہباز

0

پورے ملک میں الیکشن کی گہماگہمی میں تیزی آرہی ہے پارٹی رہنماؤں نے اپنی اپنی پارٹی کی الیکشن کمپین تیز کی ہوئی ہے ہمیشہ کی طرح غریب عوام کو لالی پاپ اور جھوٹے وعدوں سے لالی پاپ دیا جا رہا ہے اس بات میں کو ئی شک نہیں کے مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں پنجاب بھر میں کافی میگا پراجیکٹس پر کام کروائے ہیں اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید کا دھکا بھی برداشت کیا جہاں پر اچھے کام کئے ہیں وہاں پر ایک سنگین مسئلہ کو تقریبا ہر سیاسی پارٹی نے نظرانداز کیا جو کہ اب خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔

پنجاب کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے بعض علاقوں میں پانی ہے تو سہی لیکن پینے کے قابل نہیں اور بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پر پانی نام کی چیز ہی نہیں آج کل سوشل میڈیا پر کالاباغ ڈیم بناؤ مہم اپنے عروج پر ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت آج کا ووٹر باشعور ہے برادی سسٹم سے ہٹ اپنے علا قائی مسائل کو مدنظر رکھ کر ہی اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے مسلم لیگ ن نے اقتدار سے جاتے جاتے ایک نعرہ لگایا جو عوام میں کافی مقبول بھی ہوا کہ ووٹ کو عزت دو پاکستان تحریک انصاف نے کرپشن ختم کرنے کا منشور اُجاگر کیا اور وہی پرانے صدا بہار ہر حکومت میں بر سر اقتدار رہنے والے لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے عوام کے جذبات سے کھیلا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا بہت مشہور نعرہ روٹی کپڑا اور مکان سب اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن موجودہ دور میں حالات یہ ہیں کے ملک میں ڈیموں کی اشد ضرورت ہے لوگ پینے کے صاف پانی کوترس رہے ہیں بارشیں نہ ہوں تو ہر سال پانی کا شدید بحران پیدا ہوجاتا ہے لیکن بارشیں ہوجائیں تو ساتھ ہی بھارت بھی دریاؤں کا پانی کھول دیتا ہے جس سے سیلاب آتا ہے پانی ملے تب بھی عوام کا ہی نقصان نہ ملے تب بھی عوام ہی پستی ہے بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ ہمارے ملک میں پانی اسٹاک کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈیم ہی نہیں جیسے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں سیاسی نمائندے بھی اپنے حلقوں میں ووٹ مانگتے نظر آرہے ہیں لیکن اب عوام باشعور ہیں حلقے کی بات ہو یا ملک کافی حد تک عوام اپنی بنیادی ضروریات سے آگاہ ہیں پارٹی کوئی بھی ہو ووٹ اس کو ہی ملے گا جو صحت صفائی تعلیم اور دیگر سہولیات عوام کو مہیا کرے گا ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ اور تحصیل پنڈدادنخان میں مسلم لیگ ن نے ایک لمبے عرصہ تک اقتدار کا مزہ لیا ۔

مسلم لیگ کی حکومت نے اپنے ہی ایم این اے مطلوب مہدی کے فنڈ منجمد کر دئیے ہو سکتا ہے قومی الیکشن میں اس کا خمیازہ ان کو NA67میں بھگتنا پڑ جا ئے۔ تحصیل پنڈدادنخان کے بیشتر علاقے ایسے بھی جہاں جانور اور انسان آج بھی جوہڑوں سے پانی پیتے ہیں پنڈدادنخان کے علاقہ گولپور میں گزشتہ کئی سالوں سے متعدد بار عوام نے اپنے حق کے لیے احتجاج کیا کئی بار لالی پاپ دے کر ٹالا گیا اور کئی بار دھونس دھمکی سے تحصیل پنڈدادنخان میں لوگ زیادہ تر پیسوں سے پانی خریدتے ہیں لیکن جو نہیں خرید سکتے ان کو یا تو دوردراز سے پانی گھڑوں میں بھر کا لانا پڑتا ہے مجبورا گندا پانی ہی پینا پڑتا ہے۔

اسی طرح کھیوڑہ شہر بھی مسلم ن کا ہی قلہ رہا ہے لیکن آج تک کوئی خاص اقدام نہیں ہوا کہ ووٹر خوشی سے اپنی پارٹی کو ووٹ دے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان پچھلے تین سالوں میں کھیوڑہ شہر کی سڑکوں نالیوں گلیوں وغیرہ پر کام ہوئے ہیں لیکن ابھی بھی کچھ وارڈ ایسے ہیں جہاں پر گلیوں نالیوں کی تعمیر ضروری تھی وہ ویسے کے ویسے ہیں جسے ہی حکومت کا وقت پورا ہوا ہے عوام مسائل کے پہاڑ کے نیچے دب چکے ہیں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں بلدیہ کا عملہ غائب ہے کوئی پوچھنے والا نہیں خود ساختہ مہنگائی کا طوفان چل پڑا ہے ہر ایک دکاندار چاہیے وہ سبزی والا ہو یا گوشت ولا سب نے اپنے اپنے ریٹ لگا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا ہوا ہے کوئی بھی پارٹی ہوئی اور اُس کا کوئی بھی نمائندہ ہو عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں پینے کے صاف پانی کی سہولت کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں عوام حکومت کو ٹیکس دیتی ہے ۔

حکو مت کو چاہیے کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل کا حل کریں نعروں اور وعدوں سے ہٹ کر بڑے پیمانے سے لے کر چھوٹے پیمانے تک عوام کی سہولت کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں الیکش قریب ہے اور ہر سیاسی پارٹی نے اپنا اپنا منشور لے کر عوام کی دہلیز پر جارہے ہیں لیکن اب دیگر نعروں اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ عوام کا ایک ہی نعرہ اور ایک ہی مطالبہ ہے ۔ پہلے پانی لاؤ نلکو ں میں ۔پھر تم آنا حلقوں میں

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.