جہلم

سرکاری ڈاکٹروں کے نجی ہسپتالوں اورلیبارٹریوں سے اربوں کا ٹیکس اکٹھا ہو سکتا ہے۔ سماجی حلقے

جہلم: سرکاری ڈاکٹروں کے نجی ہسپتالوں اورلیبارٹریوں کی آمدنی اور اثاثے چیک کئے جائیں تو اربوں کا ٹیکس اکٹھا ہو سکتا ہے ہر سرکاری ڈاکٹر کروڑ پتی بن چکا ہے جبکہ حکومت سے تنخواہ لے کر اپنے نجی ہسپتالوں میں وقت پاس کرنے والوں کیخلاف ایکشن لے کر حکومت بڑی تعداد میں ٹیکس کی رقم جمع کرسکتی ہے ۔

یہ بات ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں نے کہی، انہوں نے کہا کہ تمام تر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر ، لیڈ ی ڈاکٹر لاکھوں روپے تنخواہ لے کر مریضوں کو چیک نہیں کرتے اور چند منٹ حاضری لگوا کر نجی ہسپتالوں میں چلے جاتے ہیں جہاں بھاری بھر کم فیسوں کے ساتھ انہی مریضوں کو چیک کرنے کے بعد ہزاروں روپے کے ٹیسٹ تجویز کردیتے ہیں جو اپنی ہی بنائی ہوئی لیبارٹریز میں کروانے کا حکم جاری کردیتے ہیں اس طرح چند سال قبل تک سائیکلوں اور پرانی موٹر سائیکلوں پر دھکے کھانے والے ڈاکٹر اب لینڈ کروزروں پر پھرتے اور کروڑوں کے بنگلوں میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بیرونی قرضے چھوڑ کر ملک کے اندر سے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے میں مخلص ہے تو سب سے پہلے ان ڈاکٹروں کا حساب کتاب کرنا ہو گا جو سالانہ کروڑوں کی کمائی کے باوجود ٹیکس دیتے ہوئے خود کو فقیر ظاہر کرتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button