کالم و مضامین

کھیوڑہ کے سیاستدان — تحریر: راجہ فیاض الحسن

کھیوڑہ شہر قومی اسمبلی کے حلقہ NA67اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP27 میں واقع ہے ۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ میں تحصیل پنڈ دادن خان جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ میں پوری تحصیل پنڈ دادن خان کے علاوہ جہلم کی چھاؤنی اور میونسپلٹی کی حدود کو چھوڑ کر شہر کا بقیہ حصہ بھی شامل ہے۔تاہم حلقہ قومی ہو یا صوبائی دونوں حلقوں میں سب سے زیادہ ووٹ بنک کھیوڑہ شہر کا ہے۔اس لئے واجب تو یہ تھا کہ ہر الیکشن میں قومی اسمبلی کے امیدوار کا انتخاب کھیوڑہ شہر سے کیا جاتا۔اگر قومی کا نہ تو صوبائی کا تو ہر صورت میں ہوتا۔ تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس شہر سے ماضی میں بہت سے امیدواروں نے مختلف اوقات میں انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

ماضی قریب کی بات کریں تو مولانا محمد اکرم نے قومی،ظفر ریحان نے صوبائی، ماسٹر احسان جنجوعہ نے صوبائی،راجہ نذر حسین نے صوبائی ، ملک خادم حسین نے صوبائی اور ملک اعجاز حسین نے بھی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے انتخاب لڑا تھا۔ان سب امیدواروں میں سے مولانا محمد اکرم نے اس وقت کے MMA کا ٹکٹ لیا تھا تاہم الیکشن ہو نہ سکا جب کہ ملک اعجاز حسین کے پاس جماعت اسلامی کا ٹکٹ تھا۔بقایا سب امیدوار آزاد تھے۔ان سب امیدواروں کا نتیجہ ایک ہی نکلا کہ بری طرح شکست ہوئی حتہٰ کہ ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

ان کے علاوہ غلام شبیر نمبر دار نے بھی ضلع کونسل کے لئے قسمت آزمائی کی تھی نتیجہ وہی ناکامی۔ کم نصیبی کی بات تو یہ ہے کہ اس شہر میں نہ تو ماضی میں اور نہ ہی حال میں کوئی بھی سیاستدان اس معیار کا پیدا ہوا ہے جوقومی یا صوبائی تو دور کی بات ضلع کونسل کاا نتخاب ہی جیت سکے۔ مجھے خدشہ ہے کہ آج اور مستقبل قریب میں بھی اس شہر سے جو بھی امیدوار انتخاب میں حصہ لے گا اس کا حشر بھی ماضی کے امیدواروں جیسا ہی ہو گا۔

بہت بڑی قومی پارٹیاں کھیوڑہ کے ایک محلہ سے بھی چھوٹے دیہہ کے باسی کو بڑی خوشی سے پارٹی کا ٹکٹ دے دیتی ہیں مگر کسی بھی صفِ اول کی پارٹی نے آج تک کھیوڑہ کے کسی بھی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا۔ نہ منت کرنے پر دیا اور نہ ہی پیسے دینے پر دیا۔

میرا تجزیہ ہے کہ مستقبل قریب میں بھی کوئی بھی قابلِ ذکر جماعت اس شہر کے کسی بھی باسی کو ٹکٹ نہیں دے گی۔ یہ پارٹیاں غلط نہیں ہیں بلکہ بالکل درست ہیں تاہم اس کی کیا وجہ ہے یہ بات سمجھنے کی اس شہر میں کسی کو دلچسپی ہی نہیں ہے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button