سوہاوہاہم خبریں

لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری ثقلین کو ہتک عزت کیس میں باعزت بری کر دیا

سوہاوہ: سابق ایم پی اے اور امیدوار حلقہ این اے 66 چوہدری محمد ثقلین سزا قبول کرنے اور نااہل ہونے کی سولی سے آزاد۔ لاہور ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے مقدمہ میں سزا کو منسوخ کر کے با عزت بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق لیگی دور حکومت کے ختم ہونے اور الیکشن سیزن شروع ہونے سے چند ماہ قبل ہی ایڈیشنل سیشن جج سوہاوہ لیاقت علی رانجھا نے ڈومیلی کے مشہور استغاثہ میں سابق ایم پی اے رہنما تحریک انصاف اور امیدوار حلقہ این اے 66 کے لیے ٹکٹ کے مضبوط امیدوار چوہدری محمد ثقلین کو چھ ماہ قید یا ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جس پر چوہدری محمد ثقلین نے ایک لاکھ جمع کروا کر ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں اپیل کر دی۔

گزشتہ تین دن سے مسلسل ہائی کورٹ میں تاریخیں پڑنے کی وجہ سے کارکنوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا تھا جس پر آج ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے چوہدری محمد ثقلین کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں با عزت بری کر دیااور تحریک انصاف کی پہلی چوائس چوہدری محمد ثقلین کے بری ہونے اور الیکشن لڑنے کے اہل ہونے پر قیادت کی طرف سے انہیں ٹکٹ کا گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق ایم پی رہنما تحریک انصاف چوہدری ثقلین کو ہتک عزت کیس زیر دفعہ 499/500 کے تحت ایڈیشنل سیشن جج سوہاوہ لیاقت علی رانجھا کی عدالت سے چھ ماہ قید اور ایک لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی جس میں سابق ایم پی اے نے بڑاگواہ کے رہائشی ن لیگ کے رہنما کے خلاف اخباری بیان دیا تھا جس کے خلاف چوہدری طارق نے ایڈیشنل سیشن جج سوہاوہ کی عدالت میں استغاثہ دائر کیا تھا ایک بار ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے جس پر انہوں نے راجہ گل زمان ایڈووکیٹ کو وکیل کرتے ہوئے ضمانت حاصل کی اور مقدمہ کی پیروی کی جس پر ایڈیشنل سیشن جج سوہاوہ نے مدعی کے وکیل راجہ ریاض کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا تھا۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. لدھڑ گروپ اس کی شدید مخالفت کرے گا کیونکہ لدھڑ گروپ جہلم کے دونوں حلقوں سے ٹکٹ لینا چاہتا ہے بالترتیب چوہدری فرخ الطاف اور فواد چوہدری ۔لیکن چوہدری ثقلین کو شاہ محمود قریشی کی حمایت حاصل ہے اور فرخ الطاف کو سواے فواد چوہدری کے کوئی بھی سپورٹ نہیں کررہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button