جہلم

جہلم کے شہری مضر صحت پانی کے استعمال سے ہیپاٹائٹس جیسی موذی مرض میں مبتلا ہونا شروع

جہلم: شہر کی گنجان آبادیوں کے شہری مضر صحت پانی کے استعمال سے ہیپاٹائٹس جیسی موذی مرض میں مبتلا ہونا شروع۔ متعدد شہری ہیپاٹائٹس کے مرض کیوجہ سے موت کی وادی میں جا چکے ہیں ،زنگ آلود پائپوں کا سیوریج ملا گندہ پانی پینے سے بیماریوں میں افسوسناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ارباب اختیار کی خاموشی سوالیہ نشان ، شہریوں کا ارباب اختیار سے صاف پانی فراہم کرنے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی گنجان آباد آبادیوں پروفیسر کالونی،جادہ،کالاگجراں،کشمیر کالونی،بلال ٹاؤن،مجاہدہ آباداوردیگر اندرون شہر کی آبادیوں میں سالہا سال پرانی بوسیدہ واٹر سپلائی پائپ لائنوں کے شکستہ ہونے سے زیر زمین سیوریج کا گندہ پا نی ان لائینوں میں شامل ہورہا ہے اس ناقص وغیر معیاری پانی کو مختلف لیبارٹریوں نے بھی مضر صحت قرار دے رکھا ہے ۔
شہری علاقوں کا ہر تیسرا شخص ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے غریب اور محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیپاٹائٹس کے شکار مریض مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ہر ماہ ان آبادیوں میں 10 فیصد سے زائد افراد کالے یر قان کا شکار ہو کرا پنی زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں اوربے شمار افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہو کر زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔
اس افسوسناک صورتحال کے متعلق متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ ،تحصیل انتظامیہ اور منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی کی توجہ مبذول کروائی گئی ۔لیکن اربا ب اختیار کی بے حسی اور چشم پوشی کی وجہ سے اب تک نجانے کتنے بے گناہ شہری موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
شہری ، سماجی، مذہبی، کاروباری تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر جہلم سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button