جہلم

وزارت صحت پولٹر ی فارمر اور فیڈ مالکان کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے۔ شہری و سماجی حلقے

جہلم: مر غیوں کی خوراک میں وسیع پیمانے پرمضرصحت اشیاء ہلاک شدہ جانوروں کی ہڈیاں ،خون اور آلائشیں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال برائلر استعمال کرنے والے شہری موذی امراض میں مبتلا ہونا شروع، وزارت صحت پولٹر ی فارمر اور فیڈ مالکان کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کریں۔
ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی ، رفاعی ، فلاحی ، مذہبی ، شہری تنظیموں کے عمائدین نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پو لٹری فارم مالکان منافع بڑھانے کے لیے مرغیوں کی جلد از جلد نمو کی کو شش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کی غذ ا میں اینٹی بائیوٹک ادویات ملائی جاتی ہیں جبکہ مرغیوں کو دی جانے والی فیڈ میں صاف شفاف وٹامن اور خوراک کی بجائے ہلاک شدہ جانوروں کی ہڈیاں ،خون اور آلائشیں اینٹی بائیوٹک ادویات جو اپنی مدت پوری کرکے ضائع تصور کی جاتی ہے شامل کردی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث پاکستان میں فیڈ فروخت کرنے والے اور پولٹری فارمرز مرغیوں کی جلد سے جلد نمو کی کو شش کرتے ہیں ان مرغیوں کا گوشت جوکہ نہ صرف کھانے میں بے ذائقہ اور مضرصحت ہیں جن کے اثرا ت سے انسانی صحت پر موذی بیماریاں حملہ آور ہوجاتی ہے جسم میں بیکٹریا اتنے طاقتو ر ہو جاتے ہیں کہ ان پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہی وہ کیفیت ہے جسے سائنسدان ‘‘سپر بگ ‘‘کا نا م دیتے ہیں یعنی بیماری کے ایسے جراثیم جن کا علاج ممکن نہیں ہے۔
تنظیموں کے عمائدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی سطح پر وزارت صحت کی نگرانی میں مانیٹری پالیسی قائم کی جائے جو مضرصحت اور انسانی زندگیوں کے جان لیوا بننے والی ہر چیز پر کڑی نظر رکھے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کرے تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button