جہلم

جہلم شہرو گردونواح میں بلدیاتی اداروں کو کالعدم قرار دینے کے بعد صفائی کی صورتحال ابتر ہو گئی

جہلم: شہرو گردونواح میں بلدیاتی اداروں کو کالعدم قرار دینے کے بعد صفائی کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے ، گلی محلوں میں جا بجا گندگی کے ڈھیر نالیوں کے بند ہونے، سیوریج سسٹم کی خرابی نے شہریوں کا جینا محال کر رکھا ہے ، جبکہ میونسپل کارپوریشن کے سینٹری ورکر اس سخت سردی اور ٹھنڈ کیوجہ سے محض دفاتر تک مقید ہو کر رہ گئے ہیں ،شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
موجودہ حکومت نے بلدیاتی ادارے ختم کرکے شہریوں کے ساتھ سخت زیادتی کی ہے ،شہریوں کو منتخب کونسلروں تک رسائی حاصل تھی اور کونسلرز کو علاقہ مکین پکڑ کر اپنے مسائل حل کروا لیتے تھے ، جو علاقہ مکینوں کے لئے آسان تھا، اور وہ اپنے عوامی نمائندوں سے باآسانی ملکر اپنی شکایت کا ازالہ بھی کروالیتے تھے ، لیکن اب ایڈ منسٹریٹر مقرر ہونے سے عام شہری صحت و صفائی کے معاملات کی شکایت کرنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔
شہر کے گلی محلوں میں نالے ابل رہے ہیں ، گندگی کے جگہ جگہ ڈھیروں کیوجہ سے شہریوں کا جینا اجیرن ہو چکا ہے ، گندگی کے ڈھیروں کیوجہ سے آوارہ اور خارش زدہ کتے گلی محلوں میں مٹر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے شہریوں کو کتوں کے کاٹنے کے اندیشہ کے ساتھ مختلف اقسام کی بیماریاں لاحق ہو نے کا خدشہ ہے۔
عوامی ، سماجی ، رفاعی ، فلاحی ، مذہبی تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سینٹری ورکرز کو گلی محلوں میں صفائی کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ وبائی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button