جہلم

درجہ چہارم کے ملازمین کو نئے پاکستان میں ترجیحی بنیادوں پر مکانات کی الاٹمنٹ کی جائے۔ کلاس فور ملازمین

جہلم: آل پاکستان کلاس فورتمام محکمہ جات کے ملازمین نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ درجہ چہارم کے ملازمین انتہائی کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی میں انتہائی قلیل تنخواہ پر گزارا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا ہے غریب ملازمین اپنے بچوں کا پیٹ پالیں یا مکانوں کے کرایے ادا کریں۔

درجہ چہارم کے ملازمین کو نئے پاکستان میں ترجیحی بنیادوں پر مکانات کی الاٹمنٹ کی جائے اور بیسک پے سکیل 7 میں ترقی دی جائے تاکہ غربت کی چکی میں پسنے والے درجہ چہارم کے ملازمین سکون کی زندگیاں گزار سکیں اور ان کے بچے بہتر تعلیم حاصل کرکے معاشرے میں باوقارشہری بن کر جی سکیں۔

اس حوالے سے درجہ چہارم کے ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمے کے افسران اور شہری درجہ چہارم کے ملازمین کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ، حالانکہ سرکاری اداروں میں درجہ چہارم کے ملازمین ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے درجہ چہارم کے ملازمین کو وہ عزت یا مقام حاصل نہیں جو درجہ چہارم کے ملازمین کی شب و روز محنت کے باعث افسران حاصل کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کلاس فور ملازمین غربت میں سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے روکھی سوکھی کھا کر نہ تو رشوت کے لئے کسی سے تقاضا کرتے ہیں اور نہ ہی شارٹ کٹ اختیار کیا جاتا ہے ، جس کیوجہ سے درجہ چہارم کے ملازمین کو جس سکیل میں بھرتی کیا جاتا ہے اسی سکیل سے ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خاموشی کو ہماری کمزور ی نہ سمجھا جائے اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو مجبوراً پر امن احتجاج کریں گے ،حکومت پنجاب نے جو وعدے کئے ان پر عملدرآمد کیا جائے۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں پچھلے اڑھائی 3 سال سے بھرتیوں پر پابندی عائد ہے بیشتر ملازمین سرکاری اداروں سے مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جن کی ڈیوٹیاں بھی موجودہ ملازمین کو ادا کرنی پڑتیں ہیں ۔ اس طرح سرکاری اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے درجہ چہارم کے ملازمین 8 گھنٹے کی بجائے 16/18 گھنٹے ڈیوٹیاں دینے پر مجبور ہیں ۔ درجہ چہارم کے ملازمین اوقات کار کے مطابق صبح 8 بجے دفتروں میں پہنچ جاتے ہیں جبکہ افسران دن 12 بجے کے بعد دفتروں میں پہنچنا شروع کر تے ہیں۔

سرکاری اداروں کے ملازمین نے پنجاب حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں ورنہ احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکموں کے ذمہ داران پر عائد ہوگی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button