پڑی درویزہ

منڈی سے اشیاء مہنگی خرید کر سستے سرکاری نرخوں پر کیسے فروخت کر سکتے ہیں؟ دوکاندار ابل پڑے

پڑی درویزہ: منڈی سے اشیاء مہنگی خرید کر سستے سرکاری نرخوں پر کیسے فروخت کر سکتے ہیں؟ بازار پڑی درویزہ و گردونواح کے دوکاندار ابل پڑے ۔انتظامیہ کو بڑی منڈیوں کے لئے بھی لائحہ عمل بنانا چاہیے ۔
تفصیلات کے مطابق تین روز قبل تحصیل دار سوہاوہ میاں محمد نذیر نے بحیثیت پرائس کنٹرول مجسٹریٹ علاقہ کی مختلف مارکیٹوں اور دوکانوں کا دورہ کیا۔ اس موقع انہوں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جو دوکاندار ایسے مواقع پر دوکانیں بند کر کے بھاگ جاتے ہیں ان کے خلاف بھی کارووائی ہو سکتی ہے ۔
جواب میں پڑی درویزہ اور گردونواح سے دوکانداران کی کثیر تعداد امڈ پڑی اور موقف بیان کیا کہ منڈی سے مہنگی اشیا خرید کر سرکاری سستے نرخوں پر کیسے فروخت کی جاسکتی ہیں۔ مثلاًایک دہی فروش پر اس لئے جرمانہ عائد کیا گیا کہ سرکاری نرخ 95روپے فی کلو گرام سے زائد نرخ پر فروخت کر رہا تھا پتا چلا ہے کہ علاقہ بھر سے دودھ مبلغ100/-فی کلو گرام کے حساب سے خریدا جاتا۔
اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دہی 95/-روپے فی کلو گرام فروخت کیا جاسکے اسی طرح چکوال ، گوجرخان سبزی فروٹ منڈیوں سے جب یہ اشیا مہنگے داموں دوکاندار خرید کر لائیں گے تو سرکاری مقرر شدہ سستے نرخوں پر فروخت کر سکیں گے ۔
دوکانداران کا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ کو تصویر کو دونوں رخ سامنے رکھنے چاہیں پہلے بڑی منڈیوں اور دودھ کے گوالوں کے نرخوں کو کنٹرول کیا جائے پھر دور دراز علاقوں کے دوکانداروں کو سرکاری ریٹ پر پابند کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔جہاں تک دودھ کے گوالوں کا تعلق ہے تو ان کا موقف ہے یہ کہ جانوروں کا چارہ انتہائی مہنگا ہے اس لئے سرکاری نرخ پر دودھ کی فروخت ممکن نہیں ہو سکتی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button