کھیوڑہ

آئی سی آئی سوڈا ایش فیکٹری کھیوڑہ کی زہریلی فضائی آلودگی اور پلانٹس کے شور نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا

کھیوڑہ: شہر کے وسط میں قائم سوڈا فیکٹری جہاں زہریلی فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہے وہی کوئلہ پر چلنے والے پاور پلانٹس کے شور نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے، پاور پلانٹس کے بے ہنگم شور سے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوتے ہیں،اعلی سیفٹی سٹینڈڈ کے دعوے فائلوں تک محدود ہیں۔
آئی سی آئی سوڈا ایش نامی فیکٹری سے دن رات نکلنے والی انتہائی زہریلی گیسوں سے عرصہ دراز سے شہر بھر میں متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں،فضائی آلودگی کے باعث شہر کا درجہ حرارت بھی کئی گنابڑھ گیاہے جس کے بارے میں اعلی حکام کو کئی بار آگاہ کیاجا چکا ہے تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے قدیم سیاحتی شہر کھیوڑہ میں روزبروز بڑھتی ہوئی فضائی اور صوتی آلودگی نے شہریوں کی زندگیوں کو عذاب بنا رکھا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ شہر کے وسط میں موجود سوڈا فیکٹری ہے۔
سوڈا ایش کی بناوٹ میں استعمال ہونے والے زہریلے کیمیکل جہاں پروڈکٹ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں وہی کیمیکل ری ایکشن کی صورت میں فیکٹری کی چمنیوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کی شکل میں فضا میں پھیل کر شہریوں میں جلد،سانس ،پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔
فیکٹری سے نکلنے والے ناکارہ زہریلے فضلے کو سٹور کرنے کے لیے بنائے گئے بڑے بڑے تالاب ہر وقت لبا لب بھر ے رہتے ہیں ان تالابوں میں موجود خطرناک چونے نما پانی سے زیر زمین عوام کے زیر استعمال صاف پانی کڑوا ہو چکا ہے جبکہ فیکٹری سے نکلنے والی تیز گرم گیسوں کے ساتھ ساتھ ان تالابوں میں موجود گرم مائع کیمیکل سے اٹھنے والی بھاپ سے شہر بھر کا درجہ حرارت بہت بڑھ گیا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کمانے والی اس فیکٹری کی مقامی آبادی کے مختص کی گئی سہولیات آٹے میں نمک کے برابربھی نہیں ہیں،فیکٹری کے خام مال اور تیار پروڈکٹ کی دنیا بھر میں ترسیل کے لیے سینکڑوں ٹن کے ٹرالے مقامی آبادی کے وسط سے گزر کر سڑک کو کھنڈات بنا رہے ہیں۔
روز بروز فیکٹری انتظامیہ پلانٹ میں توسیع کیے جا رہی ہیں۔اسی ضمن میں کوئلے سے چلنے والے پاور یونٹس بھی شامل ہیں ٹنوں کے حساب سے کوئلے کے جلنے سے جہاں ماحول میں کاربن کی مقدار بڑھ گئی ہے وہی ان یونٹس کے بلند و بے ہنگم شور نے شہریوں خاص کر بچوں اور بوڑھوں کو نئی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ مذکورہ فیکٹری شہر بھر میں لا علاج بیماریاں پھیلانے کا موجب بن رہی ہیں۔
عوامی سماجی حلقوں نے متعدد بار حکام اعلی ،محکمہ تحفظ ماحولیات،محکمہ صحت سمیت تمام ہی اداروںکی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے کہ مندرجہ بالا فیکٹری کو پابند کیا جائے کے وہ انسانی حقوق کی پاسداری کی پابندی کرے کیونکہ صاف ماحول میں سانس لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل خاموشی ہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button