جہلم

جہلم شہر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے شہریوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جہلم: شہر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے شہریوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، حکومت پنجاب ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی طرف سے پراسرار خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ، بڑھتی فضائی آلودگی کی روک تھام کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ۔

آلودہ ماحول کے باعث جہلم شہر میں بڑے پیمانے پر سموگ کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے جبکہ گزشتہ سال بھی جہلم سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ پھیلنے سے شہری بیمار پڑ گئے تھے جس کے بعد پنجاب حکومت اور مقامی ضلعی حکام کو ہوش آیا تھا جہلم میں مختلف مقامات اور سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں اور کباڑخانوں میں جلائے جانے والے ٹائر ،تاریں ، فلٹر وغیرہ سے شہر میں فضائی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔

شہر کے گنجان آباد علاقوں محلہ اسلام پورہ ، بلال ٹاؤن، کالاگجراں ، جادہ جی ٹی روڈ، محلہ سلیمان پارس ، مشین محلہ 1.2.3 سمیت شہر کی دیگر آبادیوں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو اٹھانے کی بجائے سینٹری ورکر آگ لگا کر گندگی کو تلف کرنے لگے ہیں جس سے میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو کام کرنے میں ریلیف مل رہا ہے اور ٹریکٹر ٹرالیوں سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرنا پڑ رہی اور ڈیزل کے پیسے بھی بچ رہے ہیں ۔

کوڑا جلانے سے فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے مذکورہ بالا جگہوں سے ہر روز سینکڑوں بچے ان گندگی کے ڈھیروں پر سے گزر کرسکولوں میںجانے اور واپس آنے پر مجبور ہیں آگ جلانے کے بعد نہ صرف شہری آبادیوں کے راستوں سے گزرنے والے خواتین و حضرات، بچوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ گردونواح کے رہائشی کوڑے کے لگے مستقل ڈھیر وں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔

کوڑا جلانے سے پیدا ہونے والے تعفن نے بھی شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے متعدد جگہوں پر بھی کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا کر کم کرنے کے انوکھے طریقوں سے شہری پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ نیز کباڑ خانوں میں بھی ٹائروں اور فلٹر زکو جلا کر لوہے کی تاریں حاصل کرنے کیلئے جو آگ لگائی جاتی ہے فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ میونسپل کمیٹی کے شعبہ سینٹیشن اور محکمہ ماحولیات ضلع جہلم کے ذمہ داران کو کارروائی کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہریوں کو موذی امراض سے بچایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button