جہلم

پولیس نے ڈمپروں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا، ہر ڈمپر سے 500 سے ہزار نقدی وصولی، ڈرائیورز کا احتجاج

جہلم: ڈمپروں کے خلاف پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا، ہر ڈمپر سے پانچ سو سے ایک ہزار نقدی وصولی، انکار پر ٹرک اور ڈمپر 72گھنٹے کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں10ہزار روپے فی کس جرمانے وصول کر لئے جاتے ہیں جس کی کوئی رسید نہیں دی جارہی ،جبکہ محرر تھانہ بھی فی ڈمپر 5 ہزار روپے ڈیمانڈ کرتے ہیں، ڈی سی جہلم اس اندھیر نگری کا نوٹس لیں۔ ڈرائیورزکا موقف

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سے گزر کر کریش تک جانے والے ڈمپروں کو پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ہر گزرنے والے ٹرک سے 500سے 1000روپے تک نذرانہ وصول کرلیا جاتا ہے ڈرائیوروں نے بتایا کہ سرکاری طور پر مقرر کر دہ اوقات کی پابند ی کرنے کے باوجود پولیس اور آر ٹی اے سیکرٹری اپنی کمائی کی خاطر ہمیں ماہ رمضان میں بھی ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈرائیوروں نے بتایا کہ ایک طرف حکومت کنسٹرکشن اندسٹری کو سہولت دینے کی بات کرتی ہے دوسری طرف ہم تعمیراتی میٹریل لے کر کہیں جا نہیں سکتے، پانچ پانچ دن سے ہمارے ڈمپر اور ٹرک بند ہیں ہم بیس پچیس ہزار کے ملازم ہیں ہم کہاں سے پولیس اور آر ٹی اے عملہ کو رشوت دے سکتے ہیں۔

ڈرئیوران نے بتایا کہ تھانہ سٹی ، سول لائن اور صدر میں ڈمپر پابندہو نے پر محرر اور منشی پانچ پانچ ہزار فی ٹرک مانگتے ہیں پولیس کو پیسے نہ دیں تو آرٹی اے کا عملہ ہمیں 72گھنٹے کیلئے بند کر دیتا ہے اور دس دس ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے جس کی کوئی رسید یا پرچی بھی نہیں دی جارہی ہے جبکہ تھانوں کا عملہ اتنا پرہیز گار ہے کہ وہ افطاری کا سامان بھی ڈرئیوران سے منگواتے ہیں۔

ڈمپر ڈرائیورون کا کہنا ہے کہ ڈی سی جہلم ہم پر رحم کھائیں اوقا ت کار اور روٹ کی پابندی کے باوجود ہم پر بھاری جرمانے اور کئی کئی دن گاڑیاں بند کرنے کا کیا جواز ہے جبکہ کرپشن سے پاک پولیس کے نعرے لگانے والے ڈی پی او جہلم شاکر حسین داوڑ کی کمانڈ میں تھانیدار، منشی ، محرر سب ہم کو لوٹ رہے ہیں ہم آخرکہاں جائیں رات دن مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اس سے بھی ہم کو روکا جا رہا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button