سی پی ڈی آئی اور سی آر جی کے تعاون سے ضلع جہلم میں ضلعی بجٹ سے متعلق تقریب کا انعقاد

0

جہلم: سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی آئی) اور سی آر جی کے تعاون سے ضلع جہلم میں ضلعی بجٹ سے متعلق تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔

چیف افسر ضلع کونسل ملک ساجد محمود نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ نمائندے بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہیں محدود اختیارات کے باعث ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے۔عوام کے ووٹ کی طاقت سے ہی نمائندے اقتدار کی لائن میں شامل ہوتے ہیں ،عوامی بھروسے کو بحال رکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے نچلی سطح تک عوامی مسائل کے حل کے لئے ضلعی بجٹ کو مزید موثر بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں بدلاؤ لانے کے لئے ہمیں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ٹیکسز کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے مثبت اقدامات کررہے ہیں انشااللہ ضلع جہلم کو رول ماڈل ضلع بنائیں گے ۔

وائس چیئر مین ضلع کونسل ڈاکٹر بشیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پی ڈی آئی بلاشبہ بجٹ کے متعلق عوامی آگاہی کے لئے بہتر اقدام کررہی ہے ہم شکر گزار ہیں سی پی ڈی آئی اور سی آر جی کے جن کی کاوشوں سے صوبہ پنجاب کے ہر ضلع میں بجٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق بنانے کے لئے مثبت اقدمات اپنائے جارہے ہیں۔

چیئرمین یونین کونسل راجہ کامران حیات کا کہنا تھا کہ آنے والا بجٹ مثالی ہوگا ہمارا عملہ بجٹ کو عوامی فلاح و بہبود کے مطابق بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے انشااللہ آمدہ بجٹ میں ترقیاتی کاموں اور سکیموں کو شامل کریں گے ۔

چیئر مین سی آر جی راجہ نو بہار خان نے تقریب کے شرکاء سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی شمولیت،شفافیت،رائج طریقہ کار کے اعتبار سے پنجاب میں بجٹ سازی کے عمل سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ گزشتہ سال کی نسبت بہتری کی نشاندہی کرتی ہے تاہم عوامی شمولیت اور بجٹ سازی کا عمل مایوس کن رہا۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ کال لیٹرزدیر سے جاری کیے گئے اہم سٹیک ہولڈر کیساتھ مشاروت نہیں کی گئی،صوبہ بھر میں صرف پانچ اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جبکہ ضلعی سطح پر بجٹ برانچز میں116آسامیاں خالی ہیں۔سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز2017پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔شفافیت کوفروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سروے کے مندرجات پیش کرتے ہوئے سی آر جی کے چیئر مین راجہ نو بہار خان نے کہا کہ مقامی حکومتیں مختلف سٹیک ہولڈرز کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنے میں ناکام رہیں اور محض پانچ اضلاع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جاری کی گئیں۔ بجٹ رولز کے مطابق اس دستاویز کا جاری کیا جانا ضروری ہے تاکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی رائے شامل کی جاسکے ـ۔31فیصد اضلاع میں مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ ــقبل از بجٹ مشاروت (پری بجٹ کنسلٹیشن)نہیں گئی ۔

انہوں نے بتایا کہ جن اضلاع میں یہ مشاورت ہوئی وہاں بھی بجٹ رولز میں دی گئی اسٹیک ہولڈرز کی فہرست کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں اور مختلف طبقات کو نظر انداز کرکے محض ضلعی افسران اور منتخب نمائندگان کو اس میں شامل کیا گیا ۔بجٹ رولز کے مطابق بجٹ کال لیٹر ستمبر میں جاری ہوجانا چاہیے جو بجٹ سازی کا سب سے پہلا عمل ہے لیکن سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے صرف 6اضلاع نے15 نومبر2017 تک یہ لیٹر جاری کیا جبکہ 10 اضلاع کی جانب سے31مارچ2018تک یہ لیٹر جاری ہی نہیں کیا گیا ۔صرف 14اضلاع ایسے تھے جنھوں نے 30جون2018سے قبل بجٹ کو منظور کرلیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں تمام اضلاع کی کارکردگی بہتر نہیں رہی ۔ اضلاع نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاکر شہریوں کی بجٹ تک رسائی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔صرف 5اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جن میں صرف 2 اضلاع ایسے ہیں جن کا پچھلے ایک سال کا بجٹ انکی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ سروے کے مطابق کسی ایک ضلع نے بھی سیٹیزن بجٹ جاری نہیں کیا جس کا مقصد بجٹ کی اہم تفصیلات شہریوں تک عام فہم انداز میں پہنچانا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی سطح پر موجود بجٹ برانچز انسانی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور سروے کے مطابق ان برانچز کی561منظورشدہ آسامیوں میں سے صرف445 پراہلکار تعینات ہیں جبکہ116آسامیاں خالی ہیں اسی طرح 2 اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس کی سیٹیں بھی خالی ہیں یہ صورتحال بھی بجٹ سازی کے عمل میں تعطل اور تاخیر کی وجوہات کو جزوی طور پرواضح کرتی ہے۔

قبل ازیں چیئرمین سی آر جی راجہ نو بہار خان نے تمام معززین کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کسی بھی حکومت کی اہم ترین دستاویز ہوتی ہے موجودہ ترقی یافتہ دور میں حکومتی پالیسیاں عوامی شرکت سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی ترقیاتی ایجنڈے کو بہتر بنانے کیلئے اس بجٹ پر شہریوں،سماجی تنظیموں اور میڈیا کے لوگوں کیساتھ بحث و مباحثہ کیا جائے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.