کالم و مضامین

اے قوم کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم شرمندہ ہیں

تحریر: محمد امجد بٹ

آج میرے الفاظ میرے جذبات کا ساتھ نہیں دے رہے۔ہم سب کو اللہ رب العزت نے پیدا کیااور ہم سب کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے اورخالق ِ حقیقی کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا ہے۔ اللہ تعالی ٰ کا ہر انتخاب لاجواب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قیام ِ پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے لیے جس ہستی کا انتخاب کا آج وہ ہستی اپنے منتخب کردہ رب کی بارگاہ میں پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کے جوہری بم کے خالق محسن ِ پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیر خان بے قدروں کے اس دیس سے اپنے قادرِ مطلق کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ یکم اپریل1936کو بھوپال میں پیدا ہونے والے عبدالقدیرخان ولد عبدالغفور خان نے اپنی ابتدائی تعلیم بھوپال میں حاصل کی اسکے بعد 1947 ء میں آ زادی کے بعدہجرت کر کے پاکستان آ گئے ۔

1960 ء میں کراچی یونیورسٹی سے اعلی ٰ تعلیم حاصل کی بعدازاں اعلیٰ تعلیم جرمنی کے شہر برلن، ہالینڈ،اور بیلجیم کی یونیورسٹیوں سے حاصل کرنے کے بعدذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی درخواست پر 1976ء کو پاکستان آکرجوہری توانائی اور جوہری بم کا پروگرام شروع کیا۔

31مئی 1976 ء کو انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری میں شمولیت اختیار کی ۔ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 ء کو جنرل ضیا الحق (مرحوم ) نے تبدیل کر کے ’’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز ‘‘ رکھ دیا ۔چند سالوں میں ہی انکی ٹیم نے پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک ایٹمی طاقت کے طور پر روشناس کروا دیا ۔

قوم کے اس عظیم محسن کو انکی گراں قدر خدمات کے صلہ میںحکومت پاکستان نے 14اگست 1989کو ’’ ہلالِ امتیاز ‘‘ اور پھر 14اگست 1996اور 23مارچ کو’’ نشان ِ امتیاز‘‘ دیا گیا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا ثبوت28 اور30 ــ مئی کو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر5 بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 جوہری بموں کے دھماکوں کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

23 مارچ 1999کوانہیں حکومت پاکستان کی طرف سے دوبارہ ’’ نشان ِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بے نظیر شخصیت کی گراں قدرقومی خدمات اور انکے اوصافِ حمیدہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں تین بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا علاوہ ازیں انہیں 13طلائی تمغوں سے بھی نوازا گیا ۔

قادر و کارساز اللہ رب العزت کی خاص رحمت اورعنایت سے مادر وطن پاکستان کی زندہ ضمیر شخصیت کی تدبیر سے پاکستان کی تقدیر سنور گئی۔بھارت نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو اپنے ملک کا صدر منتخب کر لیا۔مگر صد حیف کہ جس عظیم ہستی نے دشمن ملک بھارت کی جارحیت کاناطقہ بند کرنے کے لیے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا ہم نے اپنی محسن کش پالیسیوں اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے انہیں مسند صدارت پر متمکن کرنے کی بجائے انکی رہاش گاہ کو انکے لیے’’ زندان ‘‘ بنا دیا ۔

4فروری 2004کو انکے ساتھ جنرل (ر)پرویز مشرف صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے انتہائی سفاکانہ سلوک کیا جس پر پوری قوم کا سر اس عظیم محسن کے آگے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جھک گیا۔ قوم کے اس محسن کو اپنی ہی قوم سے بیگانہ کر دیا گیا۔مداحوں کی انکے دیدار تک کی رسائی ناممکن بنا دی گئی ۔پاکستانیوں کی آزادی کو درپیش خطرات کو دور کرنے والے کی اپنی آزادی کو سلب کر لیا گیا ۔ وہ ضمیر کے قیدی کی حیثیت سے اپنے گھر پر نظر بندی کی کیفیت میں ’’ پاکستانیت ‘‘کی قیمت چکاتا رہا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستانیوں کے ہی نہیں امت مسلمہ کے مسیحا ، حسن اور محبوب تھے ۔ انکی بیماری کے دوران دنیا بھر میں نمازی جہاں استحکام پاکستان کے لئے انفرادی و اجتماعی دعا کرتے وہیں وہ اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں صحت و تندرستی اور درازی عمرکے لیے دعا کرنا ہر گز نہ بھولتے تھے کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کسی بھی مرحلے پر وطن اور اپنے ہم وطنوں کو تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ انہی کی کاوشوں سے پاکستان اسلامی ملکوں کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن کر ابھرا۔ محسنِ پاکستان کا دل ہر وقت پاکستانیوں کے لئے دھڑکتا رہا ۔وہ درویش اور دور اندیش ہر پل پاکستانیوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کے لیے سوچتا رہا ۔

موت یوں تو برحق ہے اور ہر ایک نے کوچ کرنا ہے مگر پاکستانی قوم کی نظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایسی شخصیت نہیں کہ جنہیں موت نیست و نابود کر دے۔ ان جیسے لوگ جو اس ملک کی عزت اور سرمایہ ہیں اور وطن سے محبت کا قرض جو اس انداز میں اتارتے ہیں کہ ان کے کارنامے ان کے اس دنیا فانی سے چلے جانے کے بعد بھی زندہ و جاوید رکھتے ہیں ۔ انکی وفات سے زیادہ دکھ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ دوران ِ بیماری حکومت کی طرف سے کوئی بھی وزیر ،مشیر اور نمائندہ ان کی عیادت کرنے نہیں گیا اور انکو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ محسن ِ پاکستان کے پاس جا کر انکا حال احوال پوچھ لیتے ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر بڑااحسان ہے اگر یہ قوم ساری زندگی بھی لگی رہے تو انکا احسان نہیں اتار سکتی۔ناقابل تسخیر پاکستان کے اس عظیم محسن کے ساتھ جو رویہ حکمرانوں نے اپنایا پوری قوم اس پر شرمندہ ہے ۔ حکمرانوں نے انکے چاہنے والوں کو ان سے دور رکھنے کی گھٹیا کوششیں کیں مگر یہ بات بھول گئے کہ جو لوگ دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں انکی محبت دلوں سے نکالنا جسم سے روح نکالنے کے مترادف ہوتا ہے ۔

آج پوری قوم اپنے سر ندامت سے جھکائے اپنے عظیم محسن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ کہہ رہی ہے کہ مادرِ وطن کے محسن ہم تجھے نہ بھولے تھے نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے۔ ڈاکڑقدیر کا نام جب تک دنیا اور پاکستان باقی ہیں زندہ و جاوید رہے گا۔پوری قوم اپنے محسن کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے ۔

اے پروردگار!
ہمارے دلوں کی دھڑکن اور امت مسلمہ کے عظیم سپوت کو اپنے پیارے حبیب کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور وطن لے لیے سر انجام دیے گئے کارناموں کو رہتی دنیا تک زندہ ضمیر لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھنا۔ آمین

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button