سیاسی گائے — تحریر: محمد امجد بٹ

0

پیارے پڑھنے والو!
میں ان دنوں کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بیرونِ ملک ہوں مگر دل ہے کہ پاکستانی تھا ہے اور رہے گا۔ پاکستان میں عام انتخاباب کا موسم آ چکا ہے ۔بہت سے احباب جہلم کے سیاسی افق پر نمودار ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ نئے نئے ٹکٹ ہولڈروں کے دعویداروں کی سیاست میں آمد کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔میں اپنے سیاسی اضطرابیت کے شکار دوستوں کو بتاتا چلوں کہجیسے کچھ ملکوں میں غربت،لاقانونیت اور بادشاہت نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں،اسی طرح کئی فضول سی کہانیاں بھی سینہ بہ سینہ سرایت کرتی چلی آ رہی ہیںیہ اسی قبیل کی ایک کہانی ہے جو ہم نے بچپن میں اپنے بڑوںسے سنی۔ بڑوں نے اپنے بچپن میں بزرگوں سے سنی تھی اور بزرگوں نے اپنے بڑوں سے۔۔ آج نئے زمانے میں ہم آپکو بھی یہ کہانی سنا دیتے ہیں ۔

ایک گاؤں میں کسی میراثی کے ہمسائے نے کنڈلے سینگوں والی گائے خریدی، گائے دیکھنے میں بہت خوبصورت اور کافی قیمتی تھی اس لئے اہل علاقہ جوق در جوق اس دیکھنے کیلئے آتے اور تعریفیں کرکے واپس ہولیتے، میراثی کے اپنے ہمسائے سے تعلقات چونکہ کچھ کشیدہ تھے اور بول چال وغیرہ کا سلسلہ منقطع تھا جو مبارکباد دینے کی راہ میں رکاوٹ تھا ، گائے خریدنے کی خبر آخر کتنے دن لوگوں کی زبان پر رہتی ؟ مہینہ ہوا اور لوگ اسے بھول بھال کے دوبارہ اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے۔

میراثی روز صبح و شام دروازے پر کھڑے ہو کر اس کے سینگوں کا جائزہ لیتا اور پریشان رہتا کہ اگرکسی کی ٹانگ ان سینگوں میں پھنس گئی تو کیا ہوگا َ۔ کبھی اس سوال کا خود سے جواب گھڑتا تو بھی اطمینان نہ ہوتا، ایک بار دن بھر کا تھکا ہارا گھر آیا اور گرمی کی پروا کئے بغیر ہی تھوڑا جلدی سو گیا، آدھی رات کو آنکھ کھلی تو وہی پرانا فتور دماغ پرسوار تھا کہ اس گائے کے سینگوں میں کسی کی ٹانگ پھنس جائے تو کیا نتیجہ نکلے کیا منظر ہو، اسی شش وپنج میں بستر سے اٹھا اور تہہ بند جھاڑتا ہو اگیٹ سے باہر نکل کے ہمسائے کے باڑے میں پہنچ گیا، گائے اپنی مستی میں اپنا سر زمین پر رکھ کر کسی سوچ میں گم تھی اور صاحب اس کے چہرے کے عین سامنے کھڑے ہو کر بڑی پیچیدگی سے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کررہے تھے ۔

آخر کار جب رہا نہ گیا تو کڑو اگھونٹ کرکے دایاں پاؤں زمین سے بلند کیا اور پنجے کو جھٹکا لگا کر سینگ میں پھنسا لیا ، گائے رات کے اس پہر اپنے آرام میں کسی کی یوں بے باک دخل اندازی کی توقع نہیں کررہی تھی اس لئے بڑبڑ ا کے سر کو جھٹکادیا اور اٹھ کھڑی ہوئی ، اب چونکہ گائے کے اس ردعمل کیلئے صاحب بھی تیار نہیں تھے تو سر نیچے اور پاوں اوپرہونا ضروری سی بات ٹھہری ، دورے کچھ بیچارے میری طرح کے بزدل بھی تھے اس لئے چلانا شروع کر دیا کہ مارا گیا ، بچاؤ، دوڑو، وغیرہ، گلی کے لوگ اٹھ کر بھاگے تو دیکھا کہ گائے پوری طرح بدکی ہوئی ہے اور صاحب کو جھولا جھولانے کا عمل جاری ہے ، گائے کے مالک نے آ کر اسے تھپکی لگا کر کچھ ٹھنڈا کیا، صاحب کو اتارا تو پتہ چلا تو آپ ٹانگ تڑوا کر شہیدوں میں نام لکھوا چکے ہیں۔

رات کے اس ٹائم ایک پہلوان کا ترلہ کرکے جاگنے کی گزارش کی اور لہراتی ٹانگ سیٹ کروا کے پٹیوں میں لپٹے صاحب کو کھاٹ پر ڈال کر واپس آنگن میں آ دھرا۔ صبح ہوئی تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا جو بظاہر تو عیادت کیلئے آئے تھے لیکن درپردہ ان کا مقصد فلم کی کہانی سننا اور بعد میں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنا تھا ، دوپہر تک مریض درد کی وجہ سے کراہتا رہا، جب تھوڑا افاقہ ہو ا تو گلی محلے والوں نے پوچھا کہ اب کیا حال ہے جیسا کہ عموماََ تیمار داری کرتے ہیں ۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد صاحب نے جو تاریخی الفاظ لبوں سے نکالے وہ سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل تھے فرمایا، ’’ٹانگ کو مارو گولی ، یہ ٹینشن تو ختم ہوئی ناں کہ سینگ میں پائوں پھنس جائے تو اس کا نتیجہ کس صورت میں نکلتا ہے ‘‘ ۔

جہلم کے موجودہ سیاسی حالات بھی اس کہانی کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔کئی ایک امیدواروں کے پاؤں بھی سیاست کی ’’کنڈلے سینگوں ‘‘والی گائے کے سینگوں میں پھنس گئے ہیں بظاہر خوبصورت نظر آنے والی یہ گائے میدان میں اتر نے والوں اور اسکے کنڈلے سینگوں کا موازنہ کرنے والوں کا کیا حشر کرتی ہے یہ صرف وہ ہی جانتا ہے جس کا پاؤں سینگوں میں پھنس جائے۔ابھی کچھ دن باقی ہیں تب تک آپ اور میں ان سورمائوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے گائے کے سینگوں میں پائوں پھنسا رکھا ہے ۔کچھ تو کہانی پڑھ سن کر اپنی جان بخشی کروا لیں گے جو بچیں گے ان میں سے گائے کسی کی ٹانگیں توڑتی ہے یا کھڑی کرتی ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.