کالم و مضامین

ماحولیاتی آلودگی

تحریر: میاں فیصل (پنجاب یونیورسٹی)

پاکستان کا خوبصورت شہر لاہور آج کل فضائی آلودگی کے باعث شدید سموگ کی زد میں آیا ہوا ہے۔ سموگ کے باعث شہری بڑی تعداد میں بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

’ماحولیاتی آلودگی‘‘ دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ ماحولیات کے تحفظ اور خطرناک ماحولیاتی تبدیلیاں روکنے کیلئے عالمی سطح پر کئی کانفرنسیں ہوچکی ہیں۔ دن بدن دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اگر یہ صورتِ حال اسی طرح برقرار رہی تو اس سے نسل انسانی کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا۔

عالمی معیارات کے مطابق پچاس سے کم ایئر کوالٹی انڈکس محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ اگر پچاس تا سو ہو جائے تو اس سے دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد اور بچوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔۔ماہرین کے مطابق سموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔

اس وقت لاہور پوری دنیا میں آلودگی میں نمبر ون پرہے۔ اس کی بڑی وجہ لاہور میں بے ہنگم ٹریفک بھی ہے۔ لوگ اُس وقت تک کسی چیز کو سیریس نہیں لیتے جب تک اس کا شدید خطرہ سر پر نہ منڈلانہ شروع ہوجائے۔ ماحولیاتی آلودگی اس وقت ایک عالمی مسئلہ ہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو اس سے محفوظ ہو۔

ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ’’سموگ‘‘ ہے۔سموگ دراصل ایک فضائی آلودگی ہے جو ہوا میں موجود مضر صحت گیسیوں کے اخراج اور ہوا میں موجود مٹی کے ذرات کے ملاپ سے بنتی ہے۔ دراصل جب دھواں اور درجہ حرارت کم ہونیکے باعث بننے والی دھند (فوگ) آپس میں ملتے ہیں تو یہ سموگ بناتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جسے فوٹو کیمیکل سموگ بھی کہا جاتا ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نائٹروجن آکسائیڈز جیسے دیگر زہریلے ذرات سورج کی روشنی سے مل کر ردعمل ظاہر کرتے ہیں یہ چھوٹے کیمائی اجزا سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

پی ایم 2اعشاریہ5 کے ذرات اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف سانس کے ذریعے آپ کے جسم یں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ آپ کی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے ایئر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے ہیں جن کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر یا علاقے کی فضا میں موجود پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 25 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق سموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔یونیورسٹی آف شکاگو میں دنیا بھر کے ممالک میں فضائی آلودگی کے بارے میں ہونے والی ایک تحقیق کے سنہ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رہنے والے افراد کی متوقع اوسط عمر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے باعث چار سال تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں اوسط نو ماہ کی کمی ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس ماہ میں لاہور شہر کی ائیر کوالٹی کئی مرتبہ 300 سے 500 کے درمیان رہ چکی ہے جو ہر عمر کے شخص کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق بچے اور بوڑھے افراد سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس لیے جب سموگ بڑھ جائے تو انھیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی وجہ سے دل اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا افراد کو صحت کے متعلق بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں‘ بوڑھوں‘ غرض کہ ہر فرد معاشرہ کیلئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اس سے آنکھوں کے مسائل/ الرجی اور سانس کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

پاکستان میں تمام شہروں میں سے لاہور کی فضا سب سے آلودہ ہے۔سموگ کی وجوہات میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں‘ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ کوڑا اٹھا کرکے آگ لگا دیتے ہیں جو ماحول کو مزید آلودہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

جنگلات میں ہونے والی کمی‘ لوگوں کا ذاتی مفاد کیلئے درختوں کو کاٹنا بھی سموگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور سموگ کی وجہ سے مختلف ٹریفک حادثات ہوتے ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ ایسے اقدامات کرکے جس سے سموگ پر قابو پایا جا سکے۔ چونکہ درخت آکسیجن کا باعث بنتے ہیں اور ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر پابندی لگائیں اور الیکٹرک گاڑیوں کو ملک میں متعارف کروایا جائے۔بطور ذمہ دار شہری ہمیں اپنی گاڑیوں کو کم سے کم استعمال کرناچاہیے، اور سائیکل کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔

اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نیو کیمپیس، اولڈ کیمپیس، گوجرنوالہ کیمپیس، جہلم کیمپیس میں کلین اینڈ گرین مہم کے تحت ریکارڈ شجرکاری کی ہے۔جبکہ ریکارڈ شجرکاری کی وجہ سے جہلم کیمپیس میں راقم کودو دفعہ تعریفی خط اور کیش پرائز بھی مل چکا ہے چونکہ درخت دھرتی کا حسن اور ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے قدرتی مشین کا درجہ رکھتے ہیں۔لہٰذا اپنی نسلوں کو صاف ستھرا، سرسبز و شاداب اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لئے ہر فرد کو شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔

وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر صاحب کی زیرنگرانی شعبہ Earth and environmental scienceبھی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے اس پر دن رات ریسرچ کر رہا ہے۔اور اس پر کئی اہم سیمنار بھی منعقد کر چکا ہے۔ اور گاہے بگاہے اپنی ریسرچ اس پر جاری کرتا رہتا ہے۔

ائیر کوالٹی انڈیکس ان کے صحت پر اثرات

0سے100 صحت پر کم سے کم اثرات
101سے200 حساس افراد کو سانس لینے میں معمولی دشواری ہو سکتی ہے
200سے300 پھیپڑوں کے امراض کا شکار افراد، دمہ کے مریضوں اور دل کے عارضہ میں مبتلا افراد سمیت بچوں اور بزرگوں میں سانس لینے میں مشکالات پیدا ہو سکتی ہیں۔
301سے400 طویل مدت تک فضائی آلودہ ماحول میں رہنے والوں اور دل کے امراض کا شکار افراد میں سانس لینے میں دشواری پیدا ہوتی ہے
500سے401 طویل مدت تک فضائی آلودہ ماحول میں رہنے والوں سمیت دل اور پھیپڑوں کے مریضوں میں سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
500+ اسکے اثرات صحت مند افراد پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ جبکہ دل اور پھیپڑوں کے مریضوں میں اس کے اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button