کالم و مضامین

صحافی اور صحافت — تحریر: زاہد حیات

میڈیا اخبارات کسی بھی معاشرے کا ایک اہم اور لازمی عنصر ہوتے ہیں ۔ بلکہ یہ ریاست کا چوتھا ستون ہوتاہے ۔ اور ستون کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے، اگر چاروں ستونوں میں ایک ستون بھی کمزور ہو تو چھت کا قائم رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے اور ملک میں رائے عامہ بنانے حکومتوں کی نا اہلی اور ظالموں کی چیرہ دستیاں سامنے لانے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوتا، اسلئے ہی صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا گیا ہے۔

لیکن افسوس صد افسوس کہ صحافت اب کاروبار بنتی جا رہی ہے پریس کارڈ کا استعمال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنے ناجائز کاموں کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے، اور افسوس کہ کچھ ادارے بھی صحافت بیچ رہے ہیں۔ پریس کارڈز کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے ۔ اور یہ پریس کارڈلینے کی واحد شرط یہ ہے کہ اپ پیسے دے سکیں۔ نا تعلیم لازمی نا کچھ اور پیسے دیں صحافی بن جائیں۔ میں بھی جب نیا نیا صحافی بنا اور مجھے پہلا پریس کارڈ ملا تو میرے پائوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ میں اسی زغم میں کہ میں اب صحافی ہوں۔

ایک حجام کی دوکان پر پہنچا بال کٹوانے کے لئے اور بڑے رعب سے اسے بتایا کہ میں صحافی ہوں بال دھیان سے کاٹنا۔ وہ یہ سن کر مسکرایا قینچی ایک طرف رکھی ۔ دراز کھولا اور ایک کارڈ نکال کر میرے سامنے کر دیا۔ میں ہکا بکا رہ گیا کہ وہ کسی دوبدو اخبار کا نمائندہ خصوصی تھا ۔ میں چپ ہو گیا اور اپنی قدر و قیمت سمجھ آگئی۔ لیکن پھر بھی سوچا کہ ہو سکتا کہ حجام کوئی سقراط قسم کی چیز ہو اس لیے نمائندہ خصوصی بن گیا ہو ۔ یہ رعب کہیں اور ڈالتے ہیں۔

دوسرے دن دودھ دینے والا آیا تو میں نے اس کو اپنے صحافی ہونے کا بتایا اور دودھ کا معیار بہتر کرنے کی ہدایت کی۔ یہ سن کر اس نے قہقہ لگایا۔ اپنا میلا کچیلا بٹوا کھولا ۔ اور ایک کارڈ باہر نکالا اور میرے ہاتھوں میں تھما دیا۔ جناب وہ کسی روزنامہ پٹاخہ کا ضلع رپورٹر تھا ۔ میں بیہوش ہونے کے قریب تھا لیکن پھر خود کو حوصلہ دیا اور ڈرتے ڈرتے سینئر صحافی سے پوچھا کہ ما شا ء اللہ حضور کی تعلیم ،بولے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا ۔ پھر عرض کیا یہ پریس کارڈ بولے ایک دفعہ سرمایہ کاری کی ہے اب نہ پولیس موٹر سائیکل روکتی اور بھی بہت سے کام نکل آتے ہیں۔ ورنہ مجھے تو اخبار پڑھنی تک نہیں آتی۔ دل ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا ۔ لیکن پھر بھی ایک آس تھی ۔

گھر والوں نے گوشت لانے کو کہا بازار گیا۔ قصائی کی دکان پر پہنچا اسے اچھا گوشت دینے کی ہدایت کی اور اپنا صحافی ہونے کا بتایا۔ یہ سنتے ہی جناب اس نے ٹوکا رکھا اپنی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ مجھے پکا یقین تھا کہ وہ بیورو رپورٹر نکلے گا۔ تو دوستو جو چیز اتنی سستی بک رہی ہو نا تو وہ بے وقعت ہو ہی جاتی ہے۔ اور یہ ایک تلخ حقیت کی کاروبار اور مارکیٹ میں صحافت سب سے سستے داموں دستیاب اور میڈیا سے اٹھتا اعتبار بھی اہل صحافت کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

ان سب چیزوں پر سب کو سنجیدنگی سے سوچنا ہو گا ورنہ وہ دن دور نہیں جب صحافت شرمندگی بن جائے گی ۔اللہ نہ کرے کے ایسا وقت آئے کہ صحافت جیسا مقدس شعبہ بدنامی بن جائے ۔ پانچ پانچ سو روپے میں پریس کارڈ بیچنے والوں کو یہ ضرور سوچنا ہوگا ۔ یقین کریں جتنی اصلاحات کی ضرورت اس شعبہ میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button