کالم و مضامین

پولیس پر سیاسی اثر و رسوخ ختم کرو

تحریر: راجہ حسن جنجوعہ

2019 سے لے کر 2020 تک پنڈدادنخان میں چوری اور ڈکیتی کی بیشمار وارداتیں ہو چکی ہیں۔ ایک سال میں پولیس کی کارکردگی کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ وہ نہ تو مجرموں کو پکڑ کر انکو کیفر کردار تک پہنچا سکے نہ ہی اس علاقے کی عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ ہر لمحہ خطرے کی تلوار یہاں کے مکینوں کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔

میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک سال میں وارداتوں میں کافی کمی ہوئی تھی بلکہ یہ کہوں گا کہ وارداتوں میں وقفہ ضرور آیا تھا۔ لیکن صورتحال بد سے بدتر ہوتی رہی ہے۔ گلی محلے تو دور کی بات گھروں میں گھس کر چوری کرنے کی واردوتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ ہی نہیں بلکہ مویشی بھی چوری کیے جانے لگے۔

ان واردوتوں کے حوالے سے عوام کی جانب سے قانونی کاروائی بھی کروا ئی گئی، پولیس سے گشت کے حوالے سے بہتر انتظامات کرنے کو بھی کہا گیا، لیکن ملزمان نامزد کیے جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے اہم پیش رفت نہیں کی جا سکی۔ عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا تھا اور وہ بے بس تھے اسی صورتحال کے پیش نظر پنڈدانخان کی عوام نے پولیس کی ناقص کارکردگی پر احتجاج کیا۔

یاد رہے میڈیا کے ذریعے خبروں کے بعد بھی جہلم کے فواد چوہدری پر بس اتنا اثر ہوا کہ اس نے ایک بیان دے دیا کہ پولیس اس کے لیے کچھ کرے۔ پنڈدادنخان کے لوگوں کو اپنا سمجھ کر پی ٹی آئی کے ہی راہنما جن کو فواد چوہدری پسند نہیں کرتے تھے عوام کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

جی ہاں۔۔۔۔

اس احتجاج میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق امیدوار حلقہ این اے 67 طاہر آصف چوہدری بھی شامل تھے۔ پولیس نے احتجاج میں شامل لوگوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔ آصف چوہدری کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اگر تھانے کی 11 بج کر پچاس منٹ کی سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ تھانہ میں پولیس افسر کے سامنے چند لوگ بیٹھے ہیں جن میں آصف چوہدری بھی شامل ہیں اور ان کی مخالف سمت بیٹھے صاحب سے پولیس افسر کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔ لیکن 12 بج کر چھ منٹ پر اس ویڈیو میں صرف آصف صاحب ہیں جو کہ پولیس کے افسر کے پیچھے پیچھے باہر جاتے ہیں۔

پولیس کے افسر جو کہ فون پر کسی سے بات کرتے کمرے سے باہر نکل رہے ہیں۔ ہم اس بات کی گواہی نہیں سے سکتے کہ وہاں کیا صورتحال تھی اور آخر ایسا کیا ہوا کہ آصف صاحب دو گھنٹے کے بعد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس پر مختلف آرا ہیں کسی کا کہنا ہے کہ انکو ہلاک کروایا گیا، کسی نے کہا تشدد کیا گیا، کسی نے کہا پولیس کی حراست میں موت ہوئی جبکہ کسی کا کہنا ہے کہ ہسپتال پہنچ کر انکی موت ہوئی۔

وجوہات کچھ بھی رہی ہوں میں بس یہ جانتا ہوں کہ پنڈدادنخان کی بد قسمتی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ جب بھی یہاں کی عوام نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا چاہی ان کے منہ بند کیے جاتے رہے۔ یہ ہی صورتحال ایک مرتبہ پھر پیش آئی کہ چوریوں اور ڈکیتیوں کے لیے احتجاج کرنا چاہا تو احتجاج کرنے والوں کو نہ صرف تھانے کی ہوا کھانی پڑی بلکہ تحریک انصاف کے رہنما پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگئے۔

کیا اپنا حق مانگنا اتنا بڑا جرم ہے؟ کیا احتجاج کرنا ہمارا قانونی حق نہیں ہے؟ کیا پولیس سے اسکی کارکردگی کے حوالے سے سوال کرنا گناہ ہے؟ جسکی سزا اب پولیس مقابلے میں مارے دیے جانے کی بجائے اب دیگر حربے اپنا کر دی جاتی ہے؟ بحرحال پولیس کو مبارک ہو کہ اب الزام تراشی کی سیاست شروع ہو چکی ہے اور ان کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے والے اب سہم کر بیٹھ چکے ہیں لیکن شفاف پولیس اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک پولیس بنانے کا دعویٰ کرنے والی جماعت کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ اپنے ہی نمائندوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسی سیاست اور اسی پولیس کا سہارا لے رہی ہے۔

فواد چوہدری صاحب یہ بات لکھوا لیں اگر اگلی بات آپکو ٹکٹ مل بھی گیا تو ایک قاتل اور ظالم کو پنڈ دادنخان کی عوام ایک ووٹ بھی نہیں دے گی۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button