فواد چوہدری اور چھ ماہ

تحریر: زاہد حیات

1

حلقہ این اے 67 جس کو دو اعزاز حاصل تھے کہ پسماندگی میں اپنی مثال آپ تھا اور چپ کا روزہ اس حلقے بلکہ پورے جہلم نے ہی رکھا ہوا تھا۔ستم ظریفی یہ کہ جہلم کا اسمبلی میں۔ موجود مائیک بھی ز نگ آلودہ ہو کر بند ہو چکا تھا۔ کہ قسمت کی دیوی جہلم پر مہربان ہوئی اور چوہدری فواد سیاست اور صحافت کی دنیا میں۔ آیا وہ آیا اور چھا گیا کہ عملی مثال چوہدری فواد بن گیا۔

جہلم کا یہ سپوت ہر ٹاک شو اور ہر نیوز چینل کی ضرورت بن گیا۔ پہلی بار پورے پاکستان میں۔ جہلم کی آواز گونجنے لگی اور اسمبلی میں آنے سے پہلے ہی چوہدری فواد جہلم کی اور جہلم چوہدری فواد کی پہچان بن چکا تھا۔ لیکن اس وقت چوہدری فواد کو یہ محسوس ہوا کہ ہمارے حلقے کی۔ نمائندگی صرف رسمی ہے پارلیمنٹ اور حکومت میں۔چوہدری فواد کے سامنے تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین جہلم کو ہر سطح پر یکسر نظر انداز کیا جارہاہے۔تو چوہدری فواد نے عملی طور پر میدان سیاست میں۔ اترنے کا فیصلہ کیا۔سیاست میں آنے کا یہ فیصلہ صرف اور صرف جہلم کی پسماندگی اور جہلم کی بے بسی دیکھ کر کیا گیا۔

چوہدری فواد کا۔نہ تو پہچان کا مسئلہ تھا نہ شہرت کی ضرورت کیونکہ یہ دونوں چیزیں چوہدری فواد کے پاس تھیں بلکہ اب وہ مختلف چنلیز کو پہچان دینے لگا تھا۔ چوہدری فواد کی سیاست میں آمد کا واحد مقصد خدمت تھا اور ہے چوہدری فواد کا شماراب صرف جہلم نہیں بلکہ قومی سطح کے رہنماؤں میں ہونے لگا ہے یہ کامیابی چوہدری فواد کی نہیں جہلم کی بھی ہے اور بلخوص جہلم این اے 67 کی ہے۔اب جہلم بھی ملکی سطح کے فیصلوں میں شریک ہونے لگا ہے کیونکہ حکومت کا کوئی بھی فیصلہ ہو ساری دنیا جانتی کہ اس چوہدری فواد کی مشاورت اہم کردار ادا کرتی اور چوہدری فواد اس مشاورت کا بہت اہم حصہ ہوتے، یہ عزت اگر چوہدری فواد کو ملتی ہے تو یہ عزت جہلم کو بھی ملتی ہے۔

چوہدری فواد کو اگر عزت جہلم کی وجہ سے مل رہی ہے تو جہلم کی عزت میں اضافے کی وجہ بھی چوہدری فواد ہیں۔اگر جہلم نے عزت اور کامیابی دی ہے چوہدری فواد کو تو چوہدری فواد بھی آواز بنا ہے جہلم کی پہچان بنا ہے جہلم کی۔اب آتے چھ ماہ کی گارگردگی کی طرف جو افلاطون چوہدری فواد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے وہ نا تو جہلم کے عوام کے ہمدرد نا سیاست دان، 35سال سے نظر انداز کیے گئے، ضلع کو محض چھ ماہ میں سارے مسائل سے نکال لینا کسی طور پر ممکن نہیں بلکہ حقیقت یہ کہ اس ضلع کو قیام پاکستان سے اب تک نظر انداز ہی کیا گیا ہے۔

اب ستر سال کی محرومیاں محض چھ ماہ میں دور ہونے سے رہیں۔ یہ سقراط پچھلے 35 سال تو ایک لفظ نہیں بولے اچانک ان کو جہلم کی محرومیاں نظر آنے لگی ہیں۔یہ وہ عناصر ہیں جن کے۔مفادات کو کاری ضرب لگی ہے چوہدری فواد کی کامیابی سے یہ لوگ تھانے کچہری اور ترقیاتی فنڈ کو ابھی ترقی پر لگا دینے کے عادی تھے جو اب شاید ممکن نہیں۔اس لیے یہ محض چھ ماہ کو کے کر سوال کر رہے اور مایوسیاں پھیلا نے کی ناکام کوشش کر رہے تو ان کے لیے عرض ہے کہ چوہدری فواد انشاء اللہ جہلم کے لیے وہ میگا پراجیکٹس کے کے آرہے جہلم کے لیے جو اس ضلع کا نقشہ ہی بدل دیں گے اور چھ ماہ میں یہ بھی کم نہیں کہ جہلم کی عوام کو تھانے کچہری کی سیاست سے نجات مل گئی ہے۔

جہلم کے عوام کے لیے یہ بھی کم نہیں کہ اب ان کو اپنے کام کے لیے کسی سفید پوش اور ٹاوٹ کا سہارا نہیں لینا پڑتا بلکہ چوہدری فیصل اپنے ووٹروں اور عوام کے مسائل خود سنتے اور یہ مسائل پہنچانے کے لیے کسی واسطہ یا سفید پوش کی سفارش کی ضرورت نہیں ، اس حلقے کے عوام نے ان چھ ماہ میں بہتری اور تبدیلی محسوس کی ہے۔انشاء اللہ بہترین تبدیلیوں کا یہ سفر جاری رہے گا۔اور جہلم پاکستان کا ایک مثالی ضلع بنے گا۔

چوہدری فواد نے اس حلقے میں پہلی دفعہ رواداری اور برداشت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ کیا یہ کم کامیابی اھل جہلم کے لیے کہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ جہلم کی اس آواز سے خائف، لہٰذا تنقیدی عناصر خاطر جمع رکھیں کہ انشاء اللہ پاکستان کو بدلے گی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور جہلم بھی بدلے گا چوہدری فواد کی قیادت میں کیونکہ چوہدری فواد حادثاتی یہ لینڈ کارڈ رہمنا نہیں بلکہ ایک مکمل لیڈر ہے جو بولنا بھی جانتا ہے اور اپنی عوام کے لیے لڑنا بھی۔اور یہ چھ ماہ جہلم کو ایک اچھا مستقبل کی نوید دے رہے۔

چوہدری فواد کی قیادت میں۔اس تبدیلی کا پہلا ثبوت یہ کہ پورے جہلم سے کوئی ایک فرد بھی نہیں کہ سکتا کہ اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کی گئی ہو کسی کو تھانے کچہری کی سیاست میں الجھایا گیا ہو، کسی ہر جھوٹا کیس بنایا گیا ہو جہلم کے لیے یہ تبدیلی بھی ایک خوبصورت تبدیلی ہے جو چوہدری فواد کے توسط سے آئی ہے۔

یہ چھ ماہ تعین کر رہے ہیں مستقبل کا جو روشن ہے جہلم کا پاکستان کا۔عمران خان کی قیادت میں چوہدری فواد کی قیادت میں

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
  1. Ibrahim Raja کہتے ہیں

    Liar, bygger and Barking dog ready to jump like Rolling Stone.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.