ذوالفقار علی بھٹوکا یوم ولادت

تحریر: احتشام اشرف ملک

0

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو 05جنوری 1927کو سر شاہنواز بھٹو کے گھر لاڑکانہ میں پیدا ہوئے سر شاہنواز بھٹو نامور سیاستدان اور تحریک پاکستان کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک تھے اور برصغیر پاک و ہند میں سندھ اور بمبئی کی سیاست کے مرکزی ستون مانے جاتے تھے ۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بشپ ہائی سکول کراچی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کتیھڈرل ہائی سول بمبئی سے دسمبر 1946میں سنئیر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ 1947آپ نے لاس اینجلس کی ساؤتھ کیلیفورینا یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔1950میں آپ نے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ۔ اسکے بعد آپ نے اکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ جہاں سے 1952میں انھوں نے ایم اے آنرز کی ڈگری حاصل کی ۔

تحصیل علم سے فراغت کے بعد بھٹو نے میدان سیاست میں رکھا ۔ 1958میں بھٹو کو بجلی اور پانی وزیر مقرر کر دیا گیا اب ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی ستارہ عروج کی طرف گامزن تھا۔1960میں انھیں تجارت ، صنعت اور مواصلات کا وزیر بنا دیا گیا ۔ 1963میں بھٹو نے پاکستا ن اور چین کی پائیدار دوستی کی بنیاد رکھی ۔ انھوں نے بطور وزیر خارجہ سوویت یونین سے بھی مراسم استوار کیے۔

ستمبر 1965کی جنگ بعد ایوب خان کی جانب سے تاشقند میں کیے جانے والے معاہدے کے خلاف ذوالفقار علی بھٹونے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ اس ستعفیٰ نے پاکستان کی سیاست میں اُس تبدیلی کا آغاز کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جنم لیا ۔

30 نومبر 1967کو لاہور میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ملک بھر کے دورے شروع کر دیے ۔ بھٹو نے پاکستان کی عوام کو اس بات کا یقین دلایا کہ ملکی معاملات میں انکے ووٹ کی اہمیت سب سے ذیادہ ہے ۔ پھر 1970کے انتخابات میں مغربی پاکستان کے لوگوں نے بھٹو اور ان کے فلسفے کوبھاری اکثریت سے منتخب کر لیا۔

سانحہ 1971کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ، صدر مملکت اور 1973سے 1977تک وزیر اعظم رہے ۔ بھٹو نے اس دوران ملک میں زرعی اصلاحات کیں جس کے نتیجے میں بڑے بڑے جاگیر داروں سے زمین غریب کاشتکاروں میں تقسیم کر دی گئیں۔ بھٹو نے ملک میں لیبر قوانین متعارف کروائے ۔ جس کے بعد ملازمین کو یونین سازی کے حقوق مل گئے ۔

بھٹو حکومت نے بڑی بڑی صنعتوں اور اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا ۔ 1973کا ٓئین دینا ایک ایسا کارنامہ ہے جسکی بدولت انھیں ہمیشہ دیا رکھا جائے گا ۔ ہاکستا ن کے جوہری پروگرام کے خالق کے طور پر بھٹو صاحب کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ انھوں نے بھارتی ایٹمی تجربے کے بعد کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے ۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست میں تبدیل کا جو فلسفہ متعارف کروایا ۔ وہ پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے ناقابل قبول تھا ۔ 1977کے انتخابات میں ان جماعتوں کو شکست ہوئی تو انھوں نے سول نافرمانی کا آغاز کردیا ۔ یوں ملک میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جسے بنیاد بنا کر 05جولائی 1977کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ ستمبر 1977میں بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتا ر کر لیا گیا ۔

18مارچ 1978کو ہائی کورٹ نے ابھی سزائے موت کا حکم دے دیا ۔ 06فروری 1979کو سپریم کوٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی ۔ 04اپریل 1979کو انھیں اڈیالہ جیل میں بھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔ بہر حال بھٹو کو مار کر اسے قصہ پارینہ بنانے کی کوشش کرنے والوں کے بارے میں دنیا شاید کبھی اتنا نہ لکھے یا کہیے گی جتنا ذوالفقار علی بھٹو کے بارے کہا اور لکھا جاتا ہے ۔ پاکستان کی سیاست تا حال بھٹو کے سحر سے باہر نہیں کل سکی۔ یہ بات طے ہے کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کا نام آج بھی دلوں کو گرما دیتا ہے ۔

احتشام اشرف ملک

03005691114

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.