کالم و مضامین

گھبرانا نہیں سب خیر ہے؟

تحریر: محمد امجد بٹ

پرانے وقتوں کی بات ہے ۔کسی گاؤں کا ایک شخص محنت مزدوری کے لئے کسی قریبی ملک میں چلا گیا۔ جہاں سے اس کا اہلِ علاقہ اور اہلِ خانہ سے عدم رابطہ سالوں پر محیط تھا۔پاپی پیٹ کی خاطرکوہلو کے بیل کی طرح کام کرتے کرتے اسے دن رات،ماہ و سال گذر گئے۔نہ وطن نہ یارانِ وطن کی خبر ۔۔۔۔۔

پھر اچانک ایک دن اسے اپنے علاقہ کا ایک سنگی(دوست)نظر آیا۔پر دیس میں اپنے دیس کے اس دوست کو دیکھ کر وہ اس سے خوب گلے لگ کر ملا ۔اور پھر دونوںنئی باتیں اور پرانی یادیں لے کر بیٹھ گئے۔

سنا یار اپنے دیس کی کیا خبریں ہیں؟۔ نئے آنے والے دوست نے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ بھرتے ہوئے کہا

سب خیر ہے یار وہ کیا ہے کہ ساتھ والے گاؤں میں طاؤن کی وبا پھیل گئی تھی ۔جس سے گاؤں کے نمبر دار سمیت کئی اور لوگ مر گئے۔ باقی سب خیر ہے ۔ اپنے گاؤں میں سیلاب آگیا ۔ مال مویشی سب پانی کی نظر ہو گئے۔

باقی سب خیر ہے۔ کچے گھر تھے سب مسمار ہو گئے۔ باقی سب خیر ہے۔ اس شخص نے فوراً اسکی بات کو ٹوکتے ہوئے پوچھا یار میرے گھر والوں کی کوئی خیر خبر دے۔ تو نئے آنے والے دوست نے کہا یار تیرے گھر میں بھی سب خیر ہے۔ تمہارے مال ڈنگر (مال مویشی ) جتنے تھے سب سیلاب میں بہہ گئے باقی۔ سب خیر ہے۔ تمہارا بوڑھا باپ دیوار کے نیچے آکے مر گیا۔۔۔۔۔۔

باقی سب خیر ہے۔ تیری ماںتیرے باپ کی جدائی برداشت نہ کرتے ہوئے صدمے سے چل بسی۔ باقی سب خیر ہے ۔ تیری بیوی کو پانی میں تیرتے سانپ نے ڈس لیا جس سے وہ بھی زندگی کی بازی ہار گئی۔ باقی سب خیر ہے۔ تیرے اکلوتا بیٹا بخار میں مبتلا ہوکر انتقال کر گیا۔ باقی سب خیر ہے۔ تیرے خاندان کے باقی لوگوں نے تیری وراثتی جائیداد پہ قبضہ کر لیا۔ باقی سب خیر ہے۔ اور تو سنا یہاں بھی سب خیر ہے نا؟؟؟

اب اتنی ساری قیامت خیز باخیریت خبریں سن کر اس شخص پر کیا بیتی ہو گی ۔جس کے وطن میں موت رقص کر رہی تھی ۔۔۔ اسکے اہلِ خانہ کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ یار احباب اور مال و اسباب سب لٹ چکا تھا اور بتانے والا اسے یہ کہہ رہا تھا کہ قیامت اپنا کام بھی کر گئی اور پھر بھی ۔۔۔۔۔۔سب خیر ہے۔۔۔۔۔۔

پیارے پڑھنے والو!
ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہو رہا کیا۔ عزت و جاں غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔ جمع پونجیاں لٹ رہی ہیں۔ معصوم بچیوں کو جنسی درندے ہوس کا شکار بنا رہے ہیں۔ تھانے آبرو ؤں کی بولی لگانے والے بازار بن گئے ہیں۔ عدالتیں مقتل گاہوں کا روپ دھار چکی ہیں۔

مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی کی چمک ڈاکوؤں اور لٹیروں کی تجوریوں کی زینت بن رہی ہے۔ سرکاری ہسپتال مذبحہ خانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ خود ساختہ مہنگائی کا جن بوتل میں جانے کو تیار نہیں۔ سرکاری دفاتر میں انسانیت کی تزلیل رواج پکڑ رہی ہے۔ اندھیر نگری کا راج ہے۔ خونخوار درندے پنجروں سے آزاد ہو رہے ہیں۔ مارنے والے کو یہ خبر نہیں کہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ کیوں مر رہا ہے۔ زیر زیردست اور زبر زبردست ہو رہا ہے ۔

غریب روٹی کے نوالے کو ترستا ہے اور امیر ِ شہر کے کتے بھی راج کررہے ہیں۔۔۔۔مگر پھر بھی ہمارا نرم رو قاصد پیغامِ زندگی کی نوید دے کے یہ کہہ رہا ہے کہ تیل کے ذخائردریافت ہونے والے ہیں مگر ہم اس بات کا مذاق اڑاتے رہے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ ’’خان ‘‘ کی بات 100 فی صد درست تھی اس وقت پوری قوم کا تیل نکالا جا رہا ہے اتنا سچ بولنے والا لیڈر ہمیں کہاں ملے گا ؟ صرف کارکاردگی کو معیار رکھنا زیادتی ہو گی۔

یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ ’’ ہینڈ سم ‘‘ہے کہ نہیں۔ سب خیر ہے بس گھبرانا نہیں۔ آٹا نہیں تو گھبرانا نہیں۔ گھی نہیں خرید سکتے توگھبرانا نہیں۔ بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے کچھ نہیں تو گھبرانا نہیں ۔۔۔روزگار ختم ہو گیا تو گھبرانا نہیں ۔علاج کے لیے ادویات کی قیمت ادا نہیں کر سکتے تو گھبرانا نہیں۔۔

دال ،سبزی ، جوتا دستیاب نہیں تو گھبرانا نہیں کیونکہ بقول’’ وجیر اعجم ‘‘سکون صرف قبر میں ہے اورحاکم وقت کوعوام کے سکون کا بہت خیال ہے لہذا یہ سارے انتظامات حکومت جلد قبر میں جانے کے لیے کر رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button