بیاد چودھری مشتاق حسین برگٹ

تحریر: مظہر اقبال چودھری

0

اکیسویں صدی کے انیسویں سال کی پہلی سوموار میری حیات مستعار کی ہزاروںسومواروں میں سب سے زیادہ سوگوارتھی۔ عیسوی صدی کا نیا سورج پوری آب وتاب سے محض چند دن قبل طلوع ہو چکا تھا،لوگ باگ سن اٹھارہ کو الوداع کرکے انیسویں برس کی نئی شروعات کر رہے تھے اور امسال اپنی خوشیوں اور برکتوں کی امید لگائے پروردگار عالم کے سامنے میں سر بسجود تھے۔نئے سال کا سورج کائنات کے اس کرہ پر جسے ماہرین فلکیات نے زمین کا نام دے رکھا ہے۔ صرف اپنی سنہری کرنیں ہی نہیں بکھیرتا بلکہ کرہ ارض پر ہر سانس لینے والے جاندار میں ایک نیا جذبہ اور امنگ بھی پیدا کرتا ہے۔
مالک کون ومکان نے اپنے نظام میں جہاں اپنے بندوں کے لئے نئی سحر میں ان گنت خوشخبریاں رکھی ہوتی ہیں وہیں پرکچھ صبحیں اپنے جلو میں درد والم لیئے آن وارد ہوتی ہیں ۔کسی سے جدائی کا سندیسہ لانے والی سورج کی یہ روپہلی کرنیں سب سے پہلے اسی چراغ کو بجھا دیتی ہیں جو گذشتہ ساری رات کو منور کئے ہوتا ہے، بس ایسے ہی سات جنوری کے سورج کی پہلی کرن نے وہ چراغ بجھا دیا جو ساری زندگی روشنی بکھیرتا رہا ۔!

سحر جوآئی تو لائی اسی چراغ کی موت
تمام رات جو جلتا رہا سحر کے لئے

جی ہاں چودھری مشتاق حسین برگٹ سابق ایس ایس پی ضلع جہلم کی عوام کے لئے ایسا ہی ایک چراغ تھا جس نے علم کی روشنی بکھیری،دو عدد گرلز اسکول اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی عوام کے لئے جدید ترین طبی سہولتوں سے لیس ایک عظیم الشان ہسپتال کی بنیاد رکھی جسے لوگ آج میاں محمد بخش ٹرسٹ ہسپتال دھنیالہ کے نام سے جانتے ہیں ۔

یہ محض ایک ہسپتال نہیں ایک جنون کی حکایت ہے جو انھوں نے اپنے خون سے رقم کی ۔ناسازی طبع کے باوجود وہ اس ٹرسٹ کے لئے اتنے متحرک تھے کہ بخدا ہم ایسے کم کوش ان کے سامنے شرمندہ شرمندہ رہتے کیونکہ جو کام وہ ہمارے ذمہ لگاتے ہم اس ذمہ داری کا حق اس طرح ادا نہ کر سکتے جس مستعدی کا وہ ہم سے تقاضا کرتے تھے۔ایک وجہ ان کی طبیعت کی جامعیت پسندی تھی جسے ہم انگلش میں پرفیکشنیسٹ (Perfectionist) کہہ سکتے ہیں کہ ہر کام کا باریک بینی سے جائزہ اور جب تک سو فی صد اطمینان نہ ہو آگے نہیں جانا۔
ہسپتال کے ڈاکٹرز سے لے کر انجنئیرز اور دفتری عملے تک کو پتہ تھا کہ ان کے کام میں معمولی سی کوتاہی یا کمی برداشت نہیں کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج اس ہسپتال کو دیکھنے والی آنکھ دنگ رہ جاتی ہے کہ جہلم کے اس عام سے قصبے میں اس معیار کا ہسپتال واقعی ایک عجوبے سے کم نہیں ہے ۔ ان کی طبیعت کی اسی جامعیت پسندی اور اعلیٰ معیاری ذوق کی بدولت عمارت کی تعمیر میں دیر تو ہوئی لیکن کوئی کمی کسر باقی نہیں رہی ۔۔ ان سے کوئی بات منوانی ہو تو آسانی سے قائل نہیں ہوتے تھے۔
میں اور چودھری غلام احمد زمرد ہمیشہ ان سے گلہ کرتے کہ چودھری صاحب اب آپ پولیس افسر نہیں رہے براہ کرم ہمیں ہر وقت مشتبہ نہ سمجھا کریں۔وہ دلیل اور مکمل حوالہ جات کے بغیر پیش کئے گئے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تھے،ایک بار میں نے ان سے گزارش کی کہ ۔ سر ! فرانسیسی راہنما نپولین نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو ۔۔۔ میں تمہیں اچھی قوم دوں گا ۔۔۔،اس نے اپنی قوم کی تعمیر کے لئے عورت کو مرکز بنایا تھا کہ نئی نسل کی پرورش اس کی گود میں ہوتی ہے۔
نو مولود کی یونیورسٹی اس کی ماں ہوتی ہے ،، لیکن ہماری مائیں خود عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں۔اپنے علاقے کی عورتیں دیکھیں ان کی صحت کمزور اور تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ،ایک کمزور اور ان پڑھ عورت کس طرح نئی نسل کی اچھی تربیت کی ضامن ہو سکتی ہے ؟ بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد کے مراحل میں ہماری عورتیں جن ذہنی ، جسمانی اور نفسیاتی عوارض سے گزرتی ہیں ان کے تدارک کا ہمارے دیہات تو چھوڑیں شہروں میں بھی تصور نہیں ہے ۔
ہم پورے ملک میں نہ سہی کم از کم ضلع جہلم کے اس علاقے کی عورتوں کی فلاح وبہبود پر پوری توجہ مرکوز کر کے ایک انقلاب کی بنیاد تو رکھ سکتے ہیں ۔ انھی عورتوں کی گود میں پرورش پا کر جوان ہونے والی نسل انشااللہ اتنی توانا و تندرست ہوگی کہ ایک مفید شہری بن کر ہمارے علاقے کا نام روشن کرے گی ۔۔ اگر اس عظیم الشان منصوبے کی تکمیل ہوگئی اورجو خواب آپ دیکھ رہے ہیں اس کی تعبیر بھی مل گئی تو بخدا دریائے جہلم کے اس پارمدفون عظیم روحانی شخصیت جس کے نام پر آپ نے ٹرسٹ قائم کیا ہے میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کی روح بہت خوش ہوگی۔اوردنیا دیکھے گی کہ روحانی علاج کے لئے اگر کھڑی شریف مرکز تجلیات ہے تو دریائے جہلم کی اس طرف یہ مرکز جسمانی و معاشرتی علاج کا مرکز ہوگا۔۔۔۔۔مجھے اس بات پر ہمیشہ فخر رہے گا کہ انھوں نے مجھے موقع پر ہی داد دی اور کہا کہ ۔۔اب ایسا ہی ہوگا ۔!
آپ بلا کے ذہین شخص تھے ،، عام پولیس افسران کے برعکس آپ پڑھنے اور لکھنے والے تھے پولیس آرڈر دوہزار ایک پر قومی روزناموں میں ان کے مضامین قسط وار شائع ہوئے تھے جسے قومی حلقوں میں کافی سراہا گیا ،میرے ساتھ اکثر ان کا تبادلہ خیالات ہوتا تو کہتے تھے پاکستان میں فرقہ پرستی کا عفریت ایک دن ہمارے سماج کو کھا جائے گا ۔اس مسئلے پر بھی آپ نے ایک جامع مقالا لکھا تھا جو آج بھی پنجاب پولیس کے لئے راہنمائی کا منبہ ہے ۔آپ انٹرنیشنل پولیس آرگنائزیشن سے بھی وابستہ رہے اور ان کے ساتھ برطانیہ میں اس آرگنائزیش کے ایک اجلاس میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا ۔ بین الاقوامی پولیس افسران سے بھی آپکے تعلقات تھے ۔بہترین پولیس افسر آف دی ائیر کا اعزاز بھی حاصل کر چکے تھے ۔۔
میں برطانیہ میں ہونے کی وجہ سے ان کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکا ۔جس کا ملال ساری عمر رہے گا ۔ لیکن پاکستان میں موجود ان کے خاندان اور دوست احباب جس کرب سے گزر رہے ہیں میں یہاں پر بیٹھ کر بھی اس کو محسوس کر رہا ہوں۔اس موقع پر بریگیڈئیر ڈاکٹر شاہد محمود،ڈاکٹر طارق عزیز ، غلام احمد زمرد،غضنفر علی اکرام ،ان کے صاحبزادوں اور غلام جعفر سے گزارش کروں گا کہ آپ کا دکھ اور کمی تو ساری زندگی رہے گی،ان کی صرف آنکھیں بند ہوئی ہیں لیکن ان کا خواب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک زندہ جاوید حقیقت ہے ،ہم نے اس خواب میں مزید رنگ بھرنے ہیں۔
میاں محمدبخش ٹرسٹ سے فیض یاب ہونے والے مستحق مریضوں کی آس و امید کو ٹوٹنے نہیں دینا۔اب ہم سب کو مزید مستعدی سے چلنا ہوگا کہ اب ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں پر پردہ ڈالنے والی ہستی کا ساتھ نہیں ہوگا کہ جن کا کام ہم سب کے کاموں پر بھاری تھا ۔وہ اپنی جان لیوا بیماری پر بھی حاوی رہے اور آخری دم تک صرف ہسپتال کا ذکر ہی ان کے لبوں پر تھا ۔ان کے جنازے پر اگر میں موجود ہوتا تو بخدا ان کے دوستوں اور فیملی سے گزارش کرتا کہ چودھری مشتاق حسین برگٹ کو دفن کرتے وقت آنسووں ،آہوںاور اپنی سسکیوں کی آواز کے ساتھ ساتھ اپنی دونوں ہتھیلیوں کی آواز بھی ملائیں کہ کہ وہ صحیح معنوں میں تالیوں کے مستحق تھے۔کیونکہ وہ گمنام نہیں تھے انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے نام کمایا تھا وہ بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوئے ۔ ایک کامیاب شخص تھے اوراپنی دھرتی کا قرض چکا کر گئے ہیں۔

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.