پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
64,028
+2,801 (24h)
اموات
1,317
+57 (24h)
صحت یاب
22,305
34.84%
زیر علاج
40,406
63.11%
کالم و مضامین

کورونا وائرس ،،،، ڈرنا نہیں لڑنا ہے

کورونا وائرس وہان چین سے شروع ہوا جو اب تقریباً دنیا کے دو سو ممالک تک پھیل چکا ہے،کہا سنا یہ جا رہا ہے کہ یہ وائرس امریکہ نے چائینہ کو معاشی طور پر ناکام کرنے کے لیے ووہان میں چھوڑا لیکن یہ خطرناک وائرس تو امریکہ سمیت پوری دنیا میں پھیل گیا،،اٹلی میں تو چائینہ سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

اسپین،فرانس،برطانیہ بہت سارے ترقی یافتہ ممالک اس قاتل وائرس کی لپیٹ میں ہیں،،پوری دنیا میں خوف کا ماحول ہے ،،ایک مقبوضہ جموں کشمیر کو لاک ڈاؤن کرتے کرتے پوری دنیا آج لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے ،یہ وائرس پھیلتا جا رہا ہے لیکن تاحال اس پر قابو پانے کے لیے کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی۔

پاکستان میں بھی یہ وائرس اپنے پنجے مضبوط کرتا جا رہا ہے ،بیرون ممالک سے آنے والے افراد اپنے ساتھ اس قاتل وائرس کو بھی لائے لیکن ائیر پورٹ اور ملک کے داخلی راستوں پر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے جس کی وجہ سے آج کورونا کا شکار افراد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے سیکڑوں لوگ قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈز میں منتقل ہو چکے ہیں۔

ایسے حالات میں جب ہنگامی صورتحال ہو ،قومی یکجہتی کی ضرورت ہو افسوس آج بھی ہم آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں کورونا پر بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جا رہی ہے اور ذخیرہ اندوز چند ٹکوں کی خاطر فیس ماسک ،ہینڈ سینی ٹائزر چھپا کر بیٹھ گئے اور مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں ،رات و رات جعلی سینی ٹائزر بھی تیار ہو کر مارکیٹ میں آگئے ،،،کہا جائے گا یہ پیسہ جب لگ گیا یہ وائرس،،،کفن کی جیب نہیں پھر کیوں اتنی لالچ،،،کیا ہم ایسے مشکل حالات میں بھی جب خوف کے ساٹ سر پے منڈلا رہے ہوں باز نہیں آ سکتے۔

چائینہ کی قوم نے متحد ہو کر اس قاتل وائرس کا مقابلہ کیا انکے ڈاکٹرز ،پیرا میڈیکل اسٹاف اور رضا کار ملک و قوم کو بچانے کے لیے میدان میں نکلے اور اپنے عمل کے ذریعے بتایا کہ کیسے کورونا پر قابو پانا ہے اور آج جب پوری دنیا میں یہ وائرس پھیل چکا ہے چائینہ نے اس پر کافی حد تک قابو پالیا ہے۔

پاکستان میں شدید خطرات ہیں کورونا کے ساتھ پولن الرجی اور آگے ڈینگی کو موسم بھی شروع ہونے والا ہے ،،،ایسے حالات میں ہم سب کو ملکر ان آفتوں کا مقابلہ کرنا ہے،حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہے ،،،ہمیں احتیاطی تدابیر ہر صورت اپنانا ہوں گی،کچھ نہیں ہو گا چند روز گھر بیٹھنے سے ،بار بار ہاتھ اور منہ دھونے سے ،چھینکتے اور کھانستے وقت دوسروں کو خیال رکھنا ہو گا،ہمارے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

وفاقی ،صوبائی حکومتوں اور مخیر حضرات کو بھی گھروں تک محصور رہنے اور چھوٹے موٹے کاروبار بند رکھنے والے افراد کی مالی امداد کرنی ہو گی،چھٹیوں میں گھومنے پھرنے بازاروں میں جانے سے اجتناب کرنا ہو گا ،ساٹھ سال سے زائد افراد اور کم عمر بچوں کا خصوصی خیال رکھنا ہو گا اور کوشش کرنی ہو گی اپنے آپکو اپنے پیاروں کو گھروں تک محدود رکھنے کی تبھی ہم اپنی اور دوسروں کی زندگی بچا سکتے ہیں ،انتظامیہ وسائل کے مطابق کوشش کر رہی ہے قرنطینہ مراکز بھی بن چکے۔

آئسولیشن وارڈز بھی لیکن انتظامیہ لوگوں کی نقل و حرکات کو کنٹرول نہیں کر سکتی ،اس سے پہلے کہ لاک ڈاؤن کی صورتحال سامنے آئے ہمیں خود حفاظتی تدابیر اپنانا ہوں گی ،موت برحق ہے اس نے ہر حال میں آنا ہے ہمیں موت پر یقین ہے لیکن احتیاط ضروری ہے ،انشاء اللہ ہم جلد اس قاتل وائرس پر قابو پالیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close