پنڈدادنخاناہم خبریں

تخریب کاری یا محکمہ جنگلات کی ملی بھگت، کھیوڑہ کے پہاڑوں پر کیکر کی لکڑی کو آگ لگنا معمول بن گیا

پنڈدادنخان: تخریب کاری یا محکمہ جنگلات کی ملی بھگت، کھیوڑہ کے پہاڑوں پر کیکر کی لکڑی کو آگ لگنا روز کا معمول بن گیا ،آگ لگنے کے باعث قیمتی لکڑی جل کر سوکھ جاتی ہے جبکہ جنگلی حیات بری طرح متاثر ،محکمہ جنگلات کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے عرصہ دراز سے ٹمبر مافیا سینکڑوں ٹن لکڑی جسپم فیکٹریوں اور لکڑی کے ٹالوں پر فروخت کرتا آرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ کے پہاڑی ایریا میں روز کی بنا پر پہاڑی کیکر کی لکڑی کو آگ لگنا معمول بن چکا ہے، آگ لگنے کے باعث پہاڑوں پر لگے جنگلی لکڑی کے درختوں سمیت قیمتی لکٹری کے درختوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ پہاڑوں پر رہنے والے پرندوں اور جنگی جانوروں کی جانوں کا ضیاع بھی ہورہا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ٹمبر مافیا خودپہاڑی لکڑی کو آگ لگاتا ہے تاکہ سبز درخت بھی آگ کی تپش سے سوکھ جائیں جس کے بعد غیر قانون طور پر انکی کٹائی کرکے جپسم فیکٹریوں اور لکڑی کے ٹالوں پر یہ لکڑی فروخت کی جاتی ہے۔

رات کی تاریکی اور صبح سویرے لکڑی سے بھری درجنوں اوور لوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں یہ لکڑی فیکٹریوں اور ٹالوں پر سپلائی کرتی ہیں جن کے چیک اینڈ بیلنس کے کوئی موثر اقدامات نہ ہیں جبکہ ٹریفک پولیس اور پٹرولنگ پولیس کے اہلکار بھی لکڑی سے بھری اوورلوڈ ٹریکٹر ٹرالیاں نظر انداز کردیتے ہیں جس کے باعث اکثر اوقات دن کے وقت بھی پہاڑی لکڑی کی خرید وفروخت جاری رہتی ہے۔

اہل علاقہ نے ڈی سی جہلم سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے اس تخریب کار ی کوروکنے کے موثر اقدامات کیے جائیں اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لاکے معاملے کی تحقیقات کراوئی جائے تاکہ کھیوڑہ کے پہاڑوں کی خوبصورتی برقرار رہ سکے اور غیر قانونی لکڑی کی کٹائی پر قابو پایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button