اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر بیوروکریٹس سے ہی حکومت کرا لیں، فواد چوہدری

نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کی میڈیا سے گفتگو

0

اسلام آباد/جہلم: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر وزیراعظم منتخب کرنے اور الیکشن کرانے کا کیا فائدہ ہے، سرمایہ کاروں کاحکومتی پالیسیوں پراعتمادبڑھ رہاہے ،گزشتہ دنوں سٹاک مارکیٹ میں تاریخی اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئی جی کس طرح یہ کرسکتا ہے کہ وفاقی وزیر کا فون نہ سنے اور واپس فون نہ کرنے کی زحمت بھی نہ کرے، اگر صرف بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو پھر الیکشن نہ کراتے، اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر وزیراعظم منتخب کرنے اور الیکشن کرانے کا کیا فائدہ، بیورو کریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلالیتے۔

آئی جی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے: وزیراطلاعات

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر سرکاری افسر حکومت یا اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے فون نہیں اٹھائے گا تو سیاسی نگرانی کیسے ہوگی، پھر جمہوریت نہیں بلکہ اشرافیہ کی حکومت ہوگی، ملک کا چیف ایگزیکٹیو وزیراعظم اور صوبے کا چیف ایگزیکٹیو وزیراعلیٰ ہے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو آئی جی جوابدہ ہوتا ہے، بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ سرکاری افسر فون نہ اٹھائے تو ہیرو بن جائے گا، اس سے ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔

یہ بھی پرھیں: فضل الرحمن کو دن میں تارے، رات کو اسرائیلی طیارے نظر آتے ہیں۔ فواد چوہدری

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے پہلے بھی وزیراعظم سے شکایت کی تھی کہ اسلام آباد پولیس تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے خلاف کارروائی نہیں کررہی اور آئی جی اسلام آباد اس سلسلے میں نہ تعاون کررہے ہیں اور نہ ہی فون اٹھاتے ہیں، اسلام آباد میں ڈرگ اور اسکولوں میں منشیات فروخت کی جارہی ہے، پولیس نے ڈرگ مافیا کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے، شہریار آفریدی نے وزیراعظم سے یہ بھی شکایت بھی کی تھی کہ اسلام آباد پولیس کے تھانوں اور ناکوں پر رشوت وصول کی جاتی ہے، جس ختم کرنے کےلیے بھی آئی جی تعاون نہیں کررہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبرپختون خوا میں بھی حکومت کی ہے وہاں اس طرح کی کوئی شکایت نہیں، صرف پنجاب اور اسلام آباد میں ایسا کیوں ہورہا ہے، ن لیگ اتنا زیادہ عرصہ یہاں حکومت میں رہی ہے کہ پھر جمہوریت نہیں رہتی بلکہ بادشاہت بن گئی ہے، بیوروکریسی بعض معاملات میں حکومتی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کررہی، جو ہماری پالیسی پر عمل نہیں کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اپوزیشن کی اے پی سی این آر او کیلئے ہورہی ہے: فواد چوہدری

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات استعمال کریں گے جس میں وہ حق بجانے ہیں، سپریم کورٹ قابل احترام ادارہ ہے جہاں اپنا موقف پیش ریں گے، یہ ممکن نہیں کہ وزرا اور وزیراعظم کو آئی جی ، ڈی سی اور ایس پی گھاس نہ ڈالے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران کا بنی گالا میں جب گھر بنا تو اسلام آباد کی حدود میں نہیں آتا تھا، موڑا نور یونین کونسل کا حصہ تھا، انہوں نے گھر بنانے کی اجازت دی، 30 سال بعد سی ڈی اے نے گھر کو اپنی حدود میں شامل کیا، لیکن وہاں پہلے کے بنے گھر پچھلے قانون کے تحت بنے ہوئے ہیں، اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آئیں، اے پی سی کی تک سمجھ نہیں آتی، یہ این آر او لینے کے لیے ہورہی ہے لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ملے گا، ہم کہہ رہے ہیں نارو وہ کہہ رہے ہیں این آر او۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنایا تو اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے؟ اپوزیشن کے پاس نیک پاک لوگ تو ہیں نہیں، جس پر ہاتھ رکھیں اس پر نیب کے چھ کیس نکل آتے ہیں۔

شریف برادران اور زرداری چاہتے ہیں مقدمات نہ چلائے جائیں: فواد چوہدری

وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری چاہتے ہیں مقدمات نہ چلائے جائیں، عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی این آر او نہیں ملے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ دو دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1450 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، یہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہارہے، پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے، وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص سے استفادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے حالات بہترہورہے ہیں،پہلے 70 دنوں میں پاکستان کوکامیابیاں ملیں،اتنے روزمیں توٹیم نہیں بنتی۔ پاک چین عوام کے دل ایک دوسرے کیساتھ دھڑکتے ہیں،وزیراعظم کادورہ چین تعلقات کانیاباب ثابت ہوگا،چین ہمارااسٹریٹجک پارٹنرہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سیٹزن پورٹل میں اب تک ایک لاکھ سے زائدشکایات موصول ہوئی ہیں، ان شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں، سٹیزن پورٹل گڈ گورننس کیلئے ایک جدید نظام ہے، اس سے مختلف محکموں کی کارکردگی جانچنے میں مددملے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.