جہلمگردونواح کی خبریں

کونسلر خادم اللہ بٹ ہمارے مکان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے انصاف فراہم کیا جائے، سمیہ الیاس کی پریس کانفرنس

جہلم: سمیہ الیاس بیوہ بشارت حسین سکنہ بلال ٹاؤن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلال ٹاؤن نزد ٹینکی گراؤنڈ میرے والد جو (ایم ای ایس) میں بطور ایس ڈی او خدمات سرانجام دیتے رہے نے 5 مرلے جگہ خرید کر میری والدہ کے نام منتقل کرواکر گھر تعمیر کروایا ، میرے والد محمد الیاس جو کہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے وفات پا چکے ہیں جبکہ ہماری والدہ بھی 2017 ء میں رضاء الہٰی سے وفات پا چکی ہیں اس طرح ہم 5 بہنیں اور1 بھائی اس مکان میں حصے دار ہیں والدہ کی وفات کے بعد خاندان نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنی بہن کی نگہداشت کے لئے اس کے ساتھ رہنا ہوگا، اس طرح خاندانی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے میں اپنی بیٹی سمیت والدین کے گھر منتقل ہوگئیں، اس دوران میری بہن نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی بلکہ علیحدہ کرائے پر مکان لیکر رہوں گی ، اس طرح میری بہن گھر میں موجود سارا سامان اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئی جہاں مالک مکان نے میری بہن سے کونسلر یا چیئرمین بلدیہ کی تصدیق مانگی اس موقع پر میری بہن نے کہا کہ محلے کے کونسلر خادم اللہ بٹ سے تصدیق کروا کے کاغذات مالک مکان کو دے دیتے ہیں ، جبکہ ہم دونوں بہنیں کونسلر کے دفتر پہنچی تو انہوں نے کسی قسم کی شناخت بارے دریافت نہ کیا جس پر میں نے کونسلر سے سوال کیا کہ کیا آپ ہمیں جانتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کو نہیں آپ کی بہن کو جانتا ہوں ، اس طرح کونسلر کے تصدیق کئے ہوئے کاغذات ہم نے مالک مکان کے حوالے کر دیئے ، چند روز قبل میں نے اپنے جاننے والے شمالی محلہ کے رہنے والے شخص کو کہا کہ ہماری رہائش خالی ہے اگر آپ اپنی گاڑی وغیرہ کھڑی کرنا چاہتے ہیں تو کھڑی کر سکتے ہیں ، جب مذکورہ شخص نے گاڑی کھڑی کی تو محلے کے کونسلر خادم بٹ نے اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے گھر کا تالا توڑ کر برآمدے میں کھڑی ہوئی گاڑی کو دھکا لگا کر گلی میں کھڑا کر دیا اور 15 سے 20 افراد کو گھر کے اندر داخل کر دیا، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی میں نے 15 پر فون کرکے تمام حالات سے آگاہ کیا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر سید مصطفی تنویرسے ان کے دفترمیں ملاقات کرکے واقعہ بارے آگاہ کیاجس پر انہوں نے تھانہ صدر کے تفتیشی سب انسپکٹر طارق محمود کو انکوائری کرنے کا حکم دیا اس طرح 2 روز کے بعد میں نے جب تفتیشی افسر سے رابطہ کیا تو انہوںنے کہا کہ میرے پاس اور بھی کام ہیں میں نے اکیلا آپ کا کام نہیں کرنا جب فرصت ملے گی تو دیکھ لوں گا۔ اس کے بعد میں نے ایس ایچ او تھانہ صدر سے ان کے دفتر سے ملاقات کی تو انہوں نے ڈی پی او دفتر سے آنے والی درخواست بارے لا علمی کا اظہار کر دیا ، جب میں نے شکایت نمبر بتایا تو چھان بین کے بعد انہوںنے محررکے دفتر سے درخواست منگوائی اور تفتیشی کو پابند بنایا کہ وہ شام 6 بجے تک رپورٹ پیش کریں اس طرح میں شام 6 بجے تک تفتیشی کا انتظارکرتی رہی اور تفتیشی مجھے مسلسل جھوٹی طفل تسلیاں دے کر ٹرخانے کی کوشش کرتا رہا ، بلاآخر تنگ آکر میں نے ایس ایچ او سے دوبارہ رابطہ کیا تو انہوںنے کہا کہ آپ اپنے مکان میں چلی جائیں میں نے انہیں خدشات سے آگاہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کا کونسلر خادم اللہ بٹ جو کہ علاقے میں بااثر ہے مجھے جانی و مالی نقصان پہنچا سکتا ہے توانہوں نے کہا کہ میں پولیس فورس ساتھ بھجواتا ہوں آپ اپنے گھر چلی جاؤ ایس ایچ او کے حکم پر جب میں اپنے گھر پہنچی تو تفتیشی افسر نے فون کرکے کہا کہ اتنی کیا جلدی تھی کہ آپ نے دوبارہ ڈی پی او سے ملاقات کرکے شکایت لگائی ہے اسی دوران 20 سے 25 لوگ چھت کے زریعے گھر میں داخل ہوئے جس کی اطلاع میں نے ایس ایچ او صدر کو دی تو انہوںنے دوبارہ سب انسپکٹر اور محافظ سکوارڈ کو بھجوایا سب انسپکٹر طارق نے معاملے کو ختم کرنے کی بجائے مجھے اور میری بیٹی کو گھر سے باہر نکال کر تالا لگا دیا اور حکم دیا کہ کل 12 بجے انکوائری کرونگا اس وقت تک کوئی بندہ اس گھر میں داخل نہیں ہو سکتا ، ہم دونوں ماں بیٹی کو سب انسپکٹر ہمارے گھر سے ہی باہر نکال کر بے یارو مددگار چھوڑ کر واپس لوٹ گیاپوری رات میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتی رہی متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ کونسلر چاہتا ہے کہ مکان پر قبضہ کر لیا جائے جبکہ مکان میں ہم 6 بہن بھائی حصے دار ہیں متاثرہ خاتون نے وزیر اعلی ٰپنجاب ، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ، آر پی او راولپنڈی ، ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور کونسلرخادم اللہ بٹ سے تحفظ فراہم کیا جائے ۔اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انصاف فراہم نہ کیا تو میں اپنی بیٹی سمیت خود سوزی کر لوں گی جس کی تمام تر ذمہ داری خادم اللہ بٹ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوگی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button