قیامت صغری سے آج تک

تحریر: ڈاکٹر فیصل محمود

0

ایک قیامت صغری تھی جو آئی اور گزر گئی لیکن اس کی ہولناکی آج بھی دلوں پر چھائی ہوئی ہے۔یقین آتا بھی تو کیسے ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا کہ چند لمحوں میں گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر ملبے کا ڈھیر بن جائیں ۔

8اکتوبر 2005 کی وہ صبح جو اپنی رہنائیوں میں بے مثل دیکھائی دے رہی تھی، سورج پورے آب و تاب سے نکلاکہ اچانک 08بجکر 52منٹ پر کشمیر سے پاکستان کے طول وعرض تک زمین لرز اٹھی پہاڑ اپنے باسیوں پر ٹوٹ پڑے ، مکان اپنے مکینوں کو کھا گئے، راستے معدوم ہوگئے، دیکھتے ہی دیکھتے زمیں ہزاروں لوگوں کو کھا گئی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے، پھول جیسے بچوں کی لاشوں پر ڈالنے کے لئے پھول کم پڑ گئے۔اسلام آباد، مظفرآباد، کشمیر، بالاکوٹ میں صف ماتم بچھ گئی تو کئی علاقوں میں تو ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ بچا۔

7.6سکیل کے شدت سے آنے والا یہ زلزہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزہ اور 2005میں دنیا کا چوتھا بڑا زلزہ تھا۔اس زلزے کا مرکز مظفرآباد شہر سے تقریباً 9کلومیٹر دورتھاجس کے نتیجے میں تقریباً 87ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے جن میں 19ہزار بچے شامل ہیں، 38ہزار لوگ زخمی ہوئے اور 3.5ملین لوگ بے گھر ہوئے۔سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوئیں یہ ہلاکتیں 1935میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے سے کہیں زیادہ تھیں۔

اس بھیانک زلزے میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے بڑی تعداد میں بچے اپنے سکولوں میں ہی دفن ہو گئے بچ جانے والے ننھے دماغوں پر گہرے نقوش ثبت ہوگئے۔راستے معدوم ہو جانے اور مواصلاتی نظام تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں تاخیر ہوئی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اتنے بڑے حادثے کے لئے تیار بھی نہیں تھے۔

8اکتوبر کا دن قدرتی آفات سے بچاؤ کے حوالے سے لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ لوگ قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکیں اور جدید تقاضوں کے مطابق حکمت عملی اپنا کر زیادہ سے زیادہ جان ومال کو محفوظ بنا سکیں۔لیکن! ضروت اس امر کی ہے ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم مستقبل میں کسی بھی ایسے سانحے کے لئے تیار ہیں، قدرتی آفات کو روکنا نا ممکن ہے لیکن اپنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ۔

ہر سال اس دن کو جوش و جذبے کے ساتھ منا کر ہم ان شہدا کی قربانیوں کا آزالہ نہیں کر سکتے جو اس وجہ سے شہید ہو گئے کہ ہم بروقت ان کی مدد نہ کرسکے۔وہ سسکیاں اور آہیں ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہیں کہ پھر کسی معصوم پھول کو ملبے تلے دبے نہ چھوڑ دینا۔

ریسکیو 1122کا قیام اسی درد کی غمازی کرتا ہے جو کسی بھی درد بھری آہ پر فوراً لبیک کہنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔زلزہ ہو یا طوفان،آندھی ہو یا حادثہ کوئی ہے جو اس مشکل گھڑی میں سب سے پہلے آپ تک پہنچے گا۔آج اس قومی سانحے کو ہوئے 13برس بیت گئے ہیں ۔ اللہ پاک اس قوم کو اپنے حفظ امان میں رکھے۔آمین

 

ڈاکٹر فیصل محمود جہلم میں ریسکیو 1122 میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

[email protected]

ڈاکٹر فیصل محمود ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو 1122جہلم

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.