مجھے مارو گے تو نہیں

تحریر: زرمینہ شکیل راجہ

0

جنگل اور جنگل کا قانون جیسے محاورے تو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں لیکن موجودہ دور پر یہ محاورہ بالکل ٹھیک بیٹھتا ہے۔۔ آپ خود سوچئے جیسے جنگل میں ہر طاقتور جانور کمزور جانور کا استحصال کرتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے معاشرے کا بھی یہی قانون ہے فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل میں قانون نہیں ہوتا اور ہمارے معاشرے میں قانون کے ہوتے ہوئے قانون کے رکھوالے قانون کے ساتھ کھلواڑ کرتے نظر آتے ہیں پھر کوئٹہ میں FC فورس ہو یا کراچی میں رینجرز ہو یا سانحہ ساہیوال۔۔

بے شمار ٹارچر سیلز ان جانباز سپاہیوں کے ظلم کی داستانیں جا بجا بکھری نظر آتی ہیں۔۔ پھر وہ خوانچہ فروش ہو یا شہر کے معززین کوئی بھی پولیس گردی سے محفوظ نہیں۔۔ یہ عوام کے محافظ ہی عوام کے دشمن بنے نظر آتے ہیں پر کبھی کوئی موثر حکمت عملی بنائی گئی نہ کوئی اقدام کیا گیا۔۔

آپ لوگوں کی نظر سے گوجرانوالہ کے صلاح الدین کی خبر تو گزری ہو گی وہ بیچارہ ایک ذہنی معذور تھا جس کا قصور صرف اے ٹی ایم سے چھیڑ چھاڑ تھا صرف اس گناہ کی پاداش میں اس پر بد ترین تشدد کیا گیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بیچارہ ذہنی معذور ہے۔۔ وہ پانی مانگتے تڑپتا رہا دہائیاں دیتا رہا پر ہمارے شیر جوان اس انسانیت سوز سلوک کی وڈیوز بناتے رہے اور اس کو پیٹتے رہے اسکی معصومیت کا اندازہ صرف اسکے اس سوال سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس والوں کے ہاتھوں بدترین تشدد کا شکار ہو نے کے باوجود اس نے سوال کیا ہے کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟؟ اور ہمارے قابل فخر جوانوں نے اس سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔۔ خیر اچھا ہی کیا جی کر کرتا بھی کیا اگر ان موت کے سوداگروں سے بچ بھی جاتا تو کسی ہجوم کے ہاتھوں مارا جاتا۔۔

وہ تو ابدی نیند سو گیا لیکن جاتے جاتے آئنیہ دکھا ہمارے نام نہاد معاشرتی فرق کو جہان امیر کےلئے سزا کچھ ہے اور غریب کیلئے کچھ میرے نزدیک اب ان باتوں کی وقعت ہے نہ اہمیت ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کی زندگی میں اسکے لئے کچھ نہیں کرتے اور کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو ریٹنگ بڑھانے کی خاطر پرائم ٹائم میں چلنے والے ٹاک شوز میں گھنٹوں مرحوم کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اور ٹوئٹر پر انصاف کی اپیلیں کرتے پھر تے ہیں کچھ دن بعد بھول بھال کر کسی نئے سانحے کا انتظار کرتے ہیں پر میرے عزیز ہم وطنوں اس اگلے حادثے کا شکار ہم یا ہمارے پیارے بھی ہو سکتے ہیں۔۔ خدارا اپنی آنکھوں سے بےحسی کی پٹی اتارئیے جو قانون روٹی نہیں دے سکتا وہ ہاتھ کاٹنے کا حق بھی نہیں رکھتا۔۔۔۔!

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.