پنڈدادنخان کا مقدمہ

تحریر: زاہد حیات

0

پنڈدادنخان پاکستان کی تاریخی تحصیل ہے۔قیام پاکستان سے پہلے بھی یہ تحصیل کا درجہ رکھتا تھا۔ کچھ لوگ اور تاریخی طور پر کچھ حوالے ملتے ہیں کہ پنڈدادنخان کبھی ضلع بھی رہا ہے۔ اس تحصیل کے ہر قبرستان میں شہید دفن اور تحصیل کے ہر شہر اور گاؤں میں غازی بھی ہیں۔

دنیا اور پورا پاکستان اسی تحصیل کا نمک کھا رہا۔لیکن جب آپ اس تحصیل کی پسماندگی اور مسائل کو دیکھیں تو آپ کو یہ تحصیل 1920 میں کھڑی ملے گی۔ کندوال سے لے کر وگھ تک پس ماندگی ہی پس ماندگی ہی ملے گی۔ مسائل ہی مسائل ملیں گے۔ کندوال اور لللہ میں آپ کو اس تحصیل کی بیٹیاں اور بہنیں ہانی کے لیے در بدر دھکے کھاتے ملیں گی تو دھریالہ میں اسی تحصیل کی بیٹیاں مائیں بہنیں لکڑیوں کی تلاش میں نظر آئیں گی۔

کندوال میں مریض بر وقت دوائی نا ملنے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے تو پنڈی بھک میں میت کو جنازہ گاہ تک لے جانا ایک امتحان سے کم نہیں۔کیونکہ گلیاں دلدل کی شکل اختیار کر چکیں ہیں۔ پاکستان کو بنے ستر سال ہو چکے۔ ان ستر سالوں میں حکومت نے اگر اس تحصیل پر بھی اپنی دانست میں کافی کچھ لگایا ہو گا۔ وہ کہاں لگا کسی کو پتہ نہیں۔پنڈی بھک وہ گاؤں ہے جس کے مکین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے گاؤں کی سڑک 92 کے سیلاب میں تباہ ہوئی اور آج تک درست نہیں جا سکی۔کیا ایسی مثال کہیں اور مل سکتی۔

دیکھنا یہ کہ اہل گاؤں کے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا کہ 26 سال اس چھوٹی سی لنک روڈ کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نا ہو سکا اور اگر جاری ہوا تو کہاں گیا۔ اس سوال کا جواب کون دے گا۔ ایسی ہی کہانیاں اس تحصیل میں بکھری پڑیں۔ ایک ایک گاؤں پر کروڑوں لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔میں نے یونین کونسل کا تو خود سنا کہ وہاں دو سے ڈھائی کروڑ خرچ کئے گئے ماضی قریب میں۔ لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس تحصیل میں شاید ڈھائی آنے بھی خرچ کئے گئے تو پھر وہ کروڑوں کے فنڈز کدھر گئے۔

کاغذوں میں کروڑوں کی سکیمیں لاکھوں کی سڑکیں۔اتنا کچھ خرچ کرنے کے دعوے اور نا تحصیل کا کوئی راستہ سلامت نا کسی سڑک کی حالت درست نا پینے کے لیے صاف پانی دستیاب۔پھر وہ کروڑوں کے فنڈز کہاں۔یا پھر فنڈز تھے ہی نہیں اھل پنڈدادنخان سے جھوٹ بولے گئے۔یہ بات تو اسوقت کے اھل اقتدار ہی بہتر طور پر بتا سکتے۔

پنڈدادن خان کی عوام اب بے چینی سے موجودہ حکومت اور چوہدری فواد کی طرف سے دیکھ رہی ہے۔کہ پنڈدادن خان والوں نے تبدیلی کو ووٹ دیئے اھل پنڈدادنخان بجا طور پر یہ توقع کر سکتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں گے۔کیونکہ پنڈ دادنخان کو پہلی دفعہ یہ لگتا کہ ان کی نمائندگی کرنے والا اپنا حق لینا جانتا اور لے بھی سکتا۔اور اس کی کچھ نشانیاں آنا شروع ہو چکیں۔

تحصیل بھر میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کی جا چکی ہے۔پنڈدادن خان میں پاسپورٹ آفس کے قیام کی منظوری بھی اس بات کی کی گواہی دے رہی کہ پنڈدادنخان کے مسائلِ حل کرنے کے لیے پیش قدمی شروع ہو چکی ہے۔ اور انشاء اللہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب پنڈدادنخان کے لیے میگا پراجیکٹس شروع ہو جائیں گے۔ اور یہ تحصیل پس ماندگی اور مسائلِ کے بھنور سے نکل آئے گی۔ لیکن موجود قیادت کو ان لوگوں سے بچنا ہو گا جو پہلے بھی خوابوں اور داستانوں میں کروڑوں لگا تے تھے لیکن عملاً نہیں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ تحصیل پس ماندہ اور کچھ افراد ترقی یافتہ ہو گئے۔ انشاء اللہ اب اس تحصیل کا وقت بدلنے والا تر وی کا سورج طلوع ہو چکا۔ جس کی روشنی وقت کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ اب تحصیل کی قیادت چوہدری فواد کے ہاتھ میں جو جانتے کہ وہ امید کی آخری کرن اس تحصیل کے لیے۔اور وہ اپنی تحصیل کی اس امید کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔کیونکہ جہاں تک میں چوہدری فواد کو جانتا ان کی سیاست برائے خدمت ہے اور عام لوگوں کے لیے ہے اور عام لوگوں کے مسائلِ کے حل کے لیے ہے۔

پنڈدادنخان کا یہ مقدمہ انشاء اللہ چوہدری فواد کی قیادت میں ہی جیتا جائے گا۔ لیکن ماضی کا حساب بھی ضروری ہے۔ اھل پنڈدادنخان جانتا چاہتے کہ پچھلے ستر سالوں ان کو جھانسے کیوں دیے جاتے رہے اور فنڈز کے جھوٹے اعلانات کیوں کیے جاتے رہے۔اور اگر وہ اعلانات سچے تھے تو پھر یہ فنڈز کہاں گئے۔کیونکہ وہ فنڈز اس تحصیل پر نا اس تحصیل کے لوگوں ہر خرچ کیے گئے۔ یہی اھل پنڈ دادن خان کا مقدمہ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.