بسنت بہار کی آمد، باغوں میں سبزے نے رنگ بدل لئے، خصوصی رپورٹ

0

دینہ: دھوپ میں حدت ، ہواؤں میں ٹھنڈک ، درختوں پر کونپلیں پھوٹنے کو بے قرار ، کلیاں پھول بننے کی خواہش سے لبریز ، بسنت بہار کی آمد ، باغوں میں سبزے نے رنگ بدل لئے ، دیہاتوں میں سرسوں کے پیلے پھول بھر پور جوان ہو گئے تو شہروں میں گٹا اور گیندے کے پھول کھلنے لگے۔

شہروں میں لگی گھاس اور سڑکوں کے اردگرد درختوں نے سبز لباس زیب تن کر لئے تو دیہاتوں میں گندم کی میلوں تک پھیلی ہوئی فصل نے گہرے سبز چولے اوڑھ لئے ،پھاگن کے آخری عشرہ میں موسم میں تبدیلی آتی ہے اور بارشوں کے بعد موسم کھلتا ہے تو ماحول میں رومانیت آجاتی ہے عاشقوں کی طبیعت میں بے چینی آجاتی ہے اور جواں دلوں میں امنگیں پروان چڑھنے لگتی ہیں۔

نیلے گگن پر پردیسی پرندے وطنوں کو واپسی کی خوشی میں اٹھکیلیاں کرتے ڈاروں کی شکل میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔دھوپ میں تمازت آنے کے بعد باغوں اور ویرانوں میں گھاس رنگ بدل لیتی ہے اور ان میں سبز زندگی نظر آنے لگتی ہے۔کھیتوں میں گندم کی نشوونما بھی بڑھ جاتی ہے اور زندگی سے بھر پور تیز ہوا میں لہلہاتے گندم کے چھوٹے چھوٹے سبز پودے دیکھ کر کاشتکار وںکے چہرے اور مستقبل کے سہانے سپنوں کے رنگ بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پت جھڑ کے شکار درختوں پر پھر سے زندگی کی بہار نظر آنے لگتی ہے، کونپلیں پھوٹنے کو بے قرار نظر آتی ہے ، کلیاں پھول بننے کے دنوں کا انتظار بے چینی سے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ باغوں میں بہار آنے کو بے چین ہوتی ہے ، گٹا ، ڈیلیا، گیند ا اور دیگر موسمی پھول تیز دھوپ اور ٹھنڈی ہوائیں اپنے حسن کی نمائش کے لئے بے اختیار ہو کر جھومتے ہیں کسان پیلے پٹکے اور پیلی پگیں پہن کر اور خواتین پیلے ڈپٹے اوڑھ کر خوشی کے گیت گاتیں ہیں اور محاوہ عام ہے کہ آئی بسنت اور پالا اڑنت۔صدیوں سے پتنگ بازی کا میلہ بھی اسی موسم میں منعقد کیا جاتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.