جہلم

آج دنیا بھر کی طرح جہلم میں بھی مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے

جہلم: آج دنیا بھر کی طرح جہلم میں بھی مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

سرکاری و نجی اداروں میں عام تعطیل ہے ، سرکاری و غیر سرکاری ادارے ، اعلیٰ ماتحت عدالتیں آج مکمل بند رہیں گی۔ کورونا وبا سے قبل مزدوروں سے اظہار یکجہتی کیلئے علی الصبح ریلیاں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا تھا جس میں مزدوروںکے حقوق یاد دلوانے کے لئے عالمی دنیاء کی توجہ مبذول کروائی جاتی تھی۔

اس حوالے سے سماجی ، رفاعی ، فلاحی ، مذہبی ، کارروباری شخصیات سمیت محنت کشوں کا کہنا ہے کہ یوم مئی محنت کشوں کاعالمی دن گردانا جاتا ہے مزدوروں کے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ 1889 ء میں فرانس کے شہر پیرس میں فریڈرک اینگلز کی صدارت میں ہونے والی دوسری انٹرنیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

یہ فیصلہ 4 مئی 1886 کو شکاگو کی (Heymaket) مارکیٹ میں محنت کشوں کی جانب سے 8 گھنٹے کے اوقات کار بارے تحریک میں شہید ہونے والے محنت کشوں کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے 66 ممالک یوم مئی کے موقع پر سرکاری چھٹی مناتے ہیں ۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یکم مئی 1972 میں مزدور ڈے کی چھٹی کا سرکاری سطح پر اعلان کیا ، امریکہ کے صنعتی شہر شکاگو میں 4 مئی 1886 کو 8 گھنٹے کام کے ضمن میںہونے والی مزدوروں کی ایک عام ہڑتال کے دوران پولیس ایک جلسہ عام کو منتشر کر رہی تھی کہ کسی نامعلوم شخص نے پولیس پر بم پھینک دیا۔ پولیس نے اسکے جواب میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 ہزار مزدور ہلاک ہو گئے۔

ان مزدوروں کی المناک موت پر 4 مئی کو شکاگو کے شہر کی مارکیٹ چوک میں ایک اور بڑا جلسہ اور مزدور ریلی منعقد ہوئی۔ مزدور لیڈروں نے اس جلسے میں 3 مئی کو ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ضمن میں احتجاجی تقاریر کیں۔

اسی اثناء میں ایک پولیس آفیسر کیپٹن بون اسلحہ سے لیس 180 سپاہیوں سمیت جلسہ گاہ میں داخل ہوئے اور جلسہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت جلسے کے آخری مقرر سیموئیول فلیڈن تقریر کر رہے تھے اور انکی تقریر کے دوران ہی جلسہ گاہ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس سے چند پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

کیپٹن بون نے طیش میں آکر مزدوروں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا۔ دہشتگردانہ انداز کی فائرنگ سے مزدوروں کا خون سینوں سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔ایک مزدور نے اپنی قمیض خون میں ڈبو کر اس کا جھنڈا بنا دیا (اسی وقت سے مزدوروں کے جھنڈے کا رنگ سرخ ہے)۔ ہر طرف خون ہی خون اور تڑپتی ہوئی لاشیں تھیں لیکن مزدوروں کے عزائم پختہ تھے خون سے تر جھنڈا لہرا رہا تھا۔اس سانحہ میں 11 ہزار مزدور ہلاک ہوئے جن میں 2 عورتیں اور1 بچہ بھی شامل تھا۔ پولیس نے 8مزدور لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔

عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو بیشمار عدالتی بد دیانتیاں سامنے آئیں۔ اس عدالت نے 4مزدور لیڈروں ، 1ڈی فیشر، 2 اینجل، 3 اسپائر اور 4 پرسٹر کو دہشتگرد قرار دے کر 4 کو پھانسی اور3 کو عمر قید کی سزا سنائی۔ان چاروں مزدوروں نے موت کو گلے لگایا، اسپائر نے کہا ‘‘ غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گی۔‘‘ اینجل کے الفاظ بھی امر ہوگئے ‘‘ تم ہمیں مار سکتے ہو مگر ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے‘‘ فیشر نے موت کی سزا تسلیم کرتے ہوئے کہا ‘‘ ہم خوش ہیں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے جان دے رہے ہیں‘‘۔

پریسٹر نے مرنے سے پہلے کہا ‘‘ تم اس آواز کو بند کر سکتے ہو لیکن وقت بتائے گا کہ ہماری خاموشی ہماری آواز سے زیادہ طاقتور ہوگی‘‘یوں آج بھی ان مزدروں کی قربانی کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ پہلے ہی مزدوروں کے حقوق سلب کیے جارہے تھے رہی سہی کسر کورونا وباء نے پوری کر دی ہے ، جس سے نہ صرف مزدور طبقہ شدید متاثر ہواہے ، بلکہ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر مزدور اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے سے بھی محروم ہو چکے ہیں ، جس کیوجہ سے بے چارہ مزدرو آج بھی انہی مسائل کا شکار ہے جن سے وہ آج سے صدیوں پہلے دوچار تھا۔

شہر کی سماجی ، رفاعی ، فلاحی ، مذہبی و شہری تنظیموں کے عمائدین نے مخیر حضرات سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدورطبقے کو تلاش کرکے انکی مالی معاونت کی جائے تاکہ عید الفطر بہتر انداز کے ساتھ مناتے ہوئے اپنے خاندان کی بہتر انداز میں کفالت کر سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button