سابق ایم این اے نگہت پروین میر71سال کی عمرمیں انتقال کرگئیں

0

جہلم: ضلع جہلم کی معروف سماجی و سیاسی کارکن ، مسلم لیگ ن کی سابق ایم این اے نگہت پروین میر71سال کی عمرمیں انتقال کرگئیں، وہ چند روزقبل برین ہیمبرج کا شکار ہوئیں تھیں ،نماز جنازہ میں مسلم لیگ ن کی سابق وفاقی وزیر اطلاعات و مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب ، سابق ممبران قومی وصوبائی اسمبلی ، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق ممبر قومی اسمبلی نگہت پروین میر گزشتہ روز انتقال کر گئیں وہ چند روزقبل آنکھ کے آپریشن کے لئے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال گئیں تھیں جہاں ان کو برین ہیمبرج ہو گیا اور وہ قومہ کی حالت میں چند روز گزارنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملیں۔

نگہت پروین میر 22مارچ 1948کو جہلم میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام فقیر محمد میر تھا انہوںنے 1970میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا اور سماجی کارکن کی حیثیت سے کام شروع کیا ، اپنی سماجی خدمات کے باعث 1987سے 1999تک کونسلر منتخب ہوتی رہیں اور1997سے 99تک ممبر بیت المال کمیٹی ، 1998سے 99کے درمیان چیئرمین خدمت کمیٹی ، 2001سے2002تک ممبر ضلع کونسل کے طور پر اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔

مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کے بھر پور اعتماد اور قریبی تعلقات کی حامل نگہت پروین میر 2002سے 2007کے دوران پنجاب اسمبلی کی مخصوص سیٹ پر ایم پی اے منتحب ہوئیں جبکہ 2008سے 2018تک خواتین کی مخصوص سیٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو کر انہوں نے بطور نائب صدر شعبہ خواتین مسلم لیگ ن پنجاب نہ صرف مسلم لیگ ن شعبہ خواتین کی تنظیم سازی کو بہترین بنایا بلکہ ضلع بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروا کے عوام کے دلوں میں گھر کر لیا۔

انتہائی شفیق طبع اور حلیم مزاج اور نمود ونمائش سے کوسوں دور ہونے کی وجہ سے تمام طبقہ ہائے فکر کے افراد میں یکساں مقبول تھیں، مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہیں اور اعلی قیادت کے ہر حکم پر دلیر ی سے باہر نکل کر آمریت کے مقابلہ کرنے والوں میں شامل تھیں۔

ان کی نماز جنازہ میں سابق ایم این اے چوہدری خادم حسین، سابق ایم پی اے چوہدری لال حسین، سابق ایم پی اے مہر فیاض ، سابق ایم پی اے تسنیم ناصر ، سابق ایم این اے نوابزادہ مطلوب مہدی، چیئرمین بلدیہ حاجی مرزا راشد ندیم، چوہدری قربان حسین کنتریلی سابق وائس چیئرمین ضلع کونسل جہلم کے علاوہ ممتاز سماجی وسیاسی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس کے بعد ان کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.