مرزا جہانگیر — تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

جہلم جس کے عوام کو ہمیشہ سے یہ گلہ رہا کہ ان کے نمائندوں نے شاید اسمبلی میں چپ کا روزہ رکھا ہوا لیکن اب شاید یہ صورت حال تبدیل ہوتی جا رہی ہے اب جہلم میں ایسے ہیرے نظر آنے لگے ہیں کہ امید کا دیا پھر سے روشن ہونے لگا ہے ان لوگوں میں ایک نام مرزا جہانگیر کا بھی ہے۔

مرزا جہانگیر سے پہلی بار تفصیلی ملاقات اور بات چیت کا موقع البلال ریسٹورنٹ میں ملا ۔ پہلی خوشگوار حیرت تو اس وقت ہوئی جب وہ اپنے دیے وقت پر پہنچ گئے ۔ ہشاش بشاش چہرہ انکھوں سے ٹپکتا اعتماد بتا رہا تھا بندہ مکمل ہے ۔ بات چیت کا آغاز کیا تو اندازہ ہوا کہ مرزا صاحب اپنے حلقے کو صرف جانتے ہی نہیں بلکہ بہت قریب سے جانتے ہیں ۔

جہلم کے مسائل پر بات چیت ہوئی تو پتہ چلا کہ جہلم دھرتی کا یہ سپوت کندوال سے لے کر سوہاوہ تک جہلم کی ایک ایک گلی ایک ایک گھر سے واقف ہے اور نا صرف واقف بلکہ اپنے حلقے کے ہر مکین کے مسائل سے بھی بخوبی آگاہ ہیں ، لللہ کے بڑے مسائل کون سے ہیں مرزا جہانگیر خوب جانتا اور ڈومیلی والے کن مسئلوں سے دوچار یہ بھی ازبر مرزا جہانگیر کو۔ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ سپوت سیاست کے رموز سے بخوبی واقف ، اپنے حلقے کی پس ماندگی کا درد بھی اس کی باتوں سے جھلک رہا تھا ۔

پنڈدادن خان کے پستے مزدور بھی اس کے نوٹس میں تھے اور کندوال لللہ کی پانی کی بوند بوند کو ترسی عوام کا درد بھی اس کے سینے میں تھا ۔ سوہاوہ پنڈدادن خان کے سول ہسپتالوں کی حالت زار بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں تھی ۔ دولت پور اور کریم پور کی ندی بنی گلیاں بھی اس کے نوٹس میں تھیں۔ وہ ایک قابل وکیل ہے بولنا جانتا ہے دلائل دینا بھی جانتا ہے اور اپنے حق میں فیصلہ لینا بھی جانتا ہے ، اپنے لوگوں کے مسائل دکھ درد کو وہ اپنے مسائل اور دکھ درد سمجھ رہا ہے اور سمجھتا ہے ۔

مرزا جہانگیر ان مسائل سے واقف ہے لیکن یہ بات قابل داد کہ وہ ان مسائل تک واقفیت پر اکتفا نہیں کیے بیٹھا ۔ بلکہ ان مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس پروگرام بھی ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کا عزم بھی ، مرزا جہانگیر کا ؛لہجہ اور انکھیں بتا رہیں تھیں کہ سیاست کو وہ خدمت کا زریعہ سمجھتا ہے اور کہنے کی حد تک نہیں واقع ہی سیاست کو عوام کی خدمت کے لیے استمال کرنے کا اس کے پاس عزم بھی ہے ارادہ بھی ہے۔

کمزور اور پسے ہوئے طبقے پر اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق مرزا جہانگیر کا سب سے زیادہ فوکس ہے۔ وہ عام لوگوں کے مسائل بہت قریب سے جانتا کیوں کے وہ عام لوگوں کے پاس رہتاہے اور خود عام لوگوں سے ہے اس کا رشتہ عوام سے اور عام لوگوں سے بہت مضبوط ہے ۔ اس کی صفوں میں بہت بڑے نام شامل نہیں ہیں لیکن مرزا جہانگیر بڑے ناموں سے زیادہ اللہ پر اور عوام پر بھروسہ کرتا اور لگتا یہ کہ یہی بھروسہ اس کی کامیابی کی کنجی بننے والا۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Advertisement

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.